میڈرڈ حملہ:امریکی وکیل گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایف بی آئی نے ایک امریکی وکیل کو گرفتار کیا ہے جن پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والے ٹرین بم دھماکوں میں ملوث تھے۔ اِن دھماکوں میں ایک سو اکانوے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نو مُسلم وکیل برنڈن میفیلڈ جن کاتعلق پورٹ لینڈ سے ہے، پہلے امریکی فرد بتائے جاتے ہیں جن پر سپین میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انگریزی جریدے نیوز ویک نے ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق میفیلڈ کی انگلیوں کے نشانات حملہ میں استعمال ہونے والے ایک بیگ پر پائے گئے ہیں جس میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ سپین نے تقریباً ایک درجن سے زائد افراد کی فہرست تیار کی ہے جن پر ٹرین بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا شبہ پایا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گیارہ مارچ کو ہونے والے تباہ کن بم دھماکوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ سینتیس سالہ میفیلڈ سے اس مقدمے کے اہم گواہ کے حیثیت سے زیرِ حراست ہیں۔ تاہم ان کے بم دھماکوں میں ان کے کردار کے بارے میں سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا ہے۔ نیوز ویک کے مطابق میفیلڈ نے آریگان سے تعلق رکھنے والے ان چھ مسلمانوں میں سے ایک کے لئے بچوں کی نگہداشت کا کام کیا تھا جو القاعدہ کی مدد کے لئے افغانستان جانے کے الزام میں سزا یافتہ تھے۔ رپورٹ کے مطابق حکام نے میفیلڈ کے دفتر اور گھر کی تلاشی بھی لی تھی۔ میفیلڈ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کا بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ میفیلڈ سے پوچھ گچھ کی وجہ ان کا مسلمان ہونا اور بُش انتظامیہ کی مخالفت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر ایسا کرنا جرم ہے تو پھر ہم میں سے نصف کو جلایا جا سکتا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||