سپین: ذمہ دار القاعدہ یا ایٹا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے وزیر داخلہ کے مطابق جمعرات کی صبح دارالحکومت میڈرڈ کی ریل گاڑیوں میں بم دھماکے کرنے کی ذمہ داری القاعدہ تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ دوسری طرف سپین کی وزیر خارجہ اب بھی علیحدگی پسند تنظیم ایٹا کے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب، بارہ بجے کے بعد ایک ڈرامائی نیوز کانفرنس میں وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ایک مخبر کی اطلاع پر پولیس نے ایک وڈیو ٹیپ برآمد کی ہے جس میں مراکشی لہجے میں عربی بولنے والے ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ میڈرڈ دھماکے القاعدہ نے کیے ہیں اور یہ کارروائی ’گیارہ ستمبر کے حملوں سے ٹھیک ڈھائی سال بعد کی گئی ہے‘۔ ٹیپ شدہ بیان کے سرکاری ترجمے کے مطابق اس کارروائی کی وجہ یہ ہے کہ سپین نے ’بش، اس کے اتحادیوں، اور دوسرے مجرموں کا ساتھ دیا‘۔ بیان دینے والے شخص نے خود کو یورپ میں القاعدہ کا عسکری ترجمان بتایا اور اس نے خصوصاً عراق اور افغانستان کے حوالے سے دھمکی دی کہ اگر ناانصافیاں ختم نہیں ہوئیں تو مزید خون بہے گا۔ ’تمہیں زندگی چاہئے اور ہمیں موت‘۔ دوسری طرف سپین کی وزیر خارجہ آنا پلاسیو نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام اب بھی علیحدگی پسند تنظیم ایٹا کوہی مرکزی ملزم قرار دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تفتیش کے سلسلے میں تمام زاویوں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ہسپانوی کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے پاپولر پارٹی کی حکومت بم دھماکوں میں القاعدہ کے ممکنہ طور ملوث ہونے سے متعلق اطلاعات کو دبا رہت ہے کیونکہ اس خدشہ ہے کہ اسے اس کی وجہ سے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج ملک میں عام انتخابات ہو رہے ہیں، اور حکومت کے لئے صورتحال یوں پیچیدہ ہو گئی ہے کہ کل رات اس ٹیپ کی تفصیل آنے سے پہلے ہی ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام سے جھوٹ بول رہی ہے۔ ٹیپ کے بارے میں حکومتی اعلان سننے کے بعد مظاہرین کا رخ اس ریلوے سٹیشن کی جانب ہو گیا جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ وہ حکومت مخالف نعرے بازی کر رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||