BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 March, 2004, 21:47 GMT 02:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپین میں لاکھوں کا احتجاج
دھماکے کی زد میں آنے والی ایک ریل گاڑی
سپین کی حکومت نے ابتدائی طور پر دھماکوں کی ذمہ داری باسک علیحدگی پسندوں پر عائد کی تھی
سپین میں جمعرات کے بم دھماکوں میں دو سو کے لگ بھگ افراد کی ہلاکت کےخلاف لاکھوں لوگوں نے جمعہ کے روز ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔

ان دھماکوں میں جو میڈرڈ کے تین ریلوے سٹیشنوں پر ہوئے تھے، بارہ سو کے قریب افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ ہسپتالوں کا عملہ ابھی تک تقریباًایک ہزار زخمیوں کی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان میں سے چالیس افراد شدید زخمی ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ہسپانوی حکام نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

صرف میڈرڈ اور آس پاس کے قصبوں میں اسّی لاکھ ہسپانوی باشندے پرامن مظاہروں میں شریک ہوئے۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداد میں شرکت کی وجہ سے مظاہرین اپنے پروگرام کے مطابق مارچ کرنے سے قاصر رہے۔ میڈرڈ کے وسط میں واقع ایک آٹھ رویہ شاہراہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جہاں مظاہرین بارش سے بے نیاز احتجاج کرتے رہے۔

مظاہروں کی قیادت ہسپانوی شاہی خاندان، سیاسی رہنماؤں اور غیر ملکی اکابرین نے کی۔ ملک کے شمالی باسک حصے میں بھی، جو قوم پرست تنظیم ایٹا کا گڑھ ہے، بڑے بڑے مظاہرے ہوئے جن میں بم دھماکوں کی مذمت کی گئی۔

تاہم وزیر ِداخلہ اینجل ایسیبس نے اصرار کیا ہے کہ حکومت کا شبہ باسک علیحدگی پسند گروہ ایٹا پر ہی ہے۔ یہ بیان بم دھماکوں میں القائدہ کے ممکنہ ہاتھ کے اظہار کے بعد آیا ہے۔ ان کا بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب باسک کے اخبار گارا میں ایٹا نے ان بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

دنیا بھر میں ان دھماکوں کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ صدر بش نے اس کارروائی کو بہیمانہ اقدام قرار دیا ہے اور سپین کے وزیر اعظم ہوزے ماریہ نے ایتھنز سے فون پر بات چیت میں عوام سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ عیسائیوں کے پوپ نے اس حرکت کو خدا کے خلاف جارحیت قرار دیا ہے۔

فرانس، برطانیہ اور روس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان دھماکوں سے مزید قریبی بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کی نشاندہی ہوتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں سے بچا جاسکے۔

امدادی کارکن
امدادی کارکن لاشوں کو گن رہا ہے

سپین میں حکام تحقیقات کررہے ہیں کہ ان دھماکوں میں ”باسک علیحدگی پسندوں " کا ہاتھ ہے یا پھر یہ کارروائی القائدہ کی ہے۔

پہلا دھماکہ اٹوشہ کے سٹیشن پر ہوا جس سے ایک ٹرین کے کئی ڈبے تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد دو دوسرے سٹیشنوں پر بھی دھماکے ہوئے۔

سپین کی حکومت نے ابتدائی طور پر دھماکوں کی ذمہ داری ”باسک علیحدگی پسندوں" پر عائد کی تھی تاہم سپین کے وزیر داخلہ انخل اسویس کا کہنا ہے کہ میڈرڈ کے نزدیک ایک قصبے سے جو چوری شدہ وین ملی ہے اس سے اسلحہ برآمد ہونے کے علاوہ قرآنی آیات کی ریکارڈنگ کی ایک ٹیپ بھی ملی تھی۔

اس کے علاو ہ لندن سے شائع ہونے والے ایک عربی روزنامے ”القدس العربی " نے بھی کہا ہے کہ انہیں ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں القائددہ سے منسوب ایک تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تاہم امریکی تحقیقاتی ادارے کے حکام نے اس دعوے پر شک کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد