ایٹا تنظیم کی تاریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین میں گزشتہ روز کے دھماکوں کے بعد سرکاری سطح پر جن تنظیموں پر شک ظاہر کیا جا رہا ہے ان میں ایک ایٹا کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ لیکن اس تنظیم میں کون لوگ شامل ہیں اور اس کا قیام کب عمل میں آیا؟ اس سوال کا جواب یورپ کے ایک کونے میں سرسبز و شاداب وادیوں اور ساحل کے ساتھ ملحق باسک نامی علاقے میں بسنے والوں کی شناخت پر ہے۔ اپنی قدیم تاریخ پر نازاں، باسک علاقے کے لوگ اپنی زبان و ثقافت کے تحفظ کے لئے ہزاروں برس سے جنگ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ رومیوں کے زمانے سے بھی پہلے سے یہاں قابض ہیں۔ یہ لوگ کہاں سے آئے کسی کو علم نہیں۔ ان کی زبان کا جسے ایسکیرا کہتے ہیں کسی دوسری معروف زبان سے کوئی واضح تعلق نہیں لیکن ان کی زبان قدیم عرصے سے بولی جا رہی ہے۔ باسک لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے علاقے کے دفاع کے لئے سخت جنگیں لڑیں اور جنگجوؤں کے طور پر مشہور ہوگئے۔ ان لوگوں کا پیشہ عموماً ماہی گیری تھا اور ہے اور دنیا میں ان کے خانسامے سب سے بہترین مانے جاتے ہیں۔ باسک کے لوگ انیس سو تیس میں سپین میں ہونے والی خانہ جنگی میں جنرل فرینکو کی قوم پرست فوج کے سخت ترین مخالف تھے۔ چالیس برس پر محیط فرینکو کے دور میں، باسک علاقے کو انتہائی کڑی سزا دی گئی اور انہوں نے دو صوبوں کو غدار صوبے قرار دیا۔ باسک لوگوں کی زبان ایسکیرا بولنے پر پابندی عائد کر دی گئی اور باسک علاقے میں سرمایہ کاری کو تقریباً ختم کر دیا گیا۔
لیکن جنرل فرینکو اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح باسک علاقے کے لوگوں کو دبانے میں ناکام رہے اور یوں انیس سو پچاس کی دہائی میں باسک وطن کے نام سے ایک تحریک وجود میں آئی اور علیحدگی پسند دھڑے ایٹا نے دس برس بعد تشدد پسند کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ علحیدگی پسند باسک باشندوں پر مبنی ایٹا تنظیم تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے شمالی سپین اور جنوب مغربی فرانس کے سات علاقوں کی آزادی کے لئے مسلح جد و جہد کر رہی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے اس کے ہیں۔ جنرل فرینکو کی آمریت کے خلاف لڑنے والے باسک کے لوگوں نے اپنی زبردست مزاحمت جاری رکھی لیکن انیس سو پچھہتر میں فرینکو کی موت کے بعد سب کچھ تبدیل ہو کر رہ گیا اور آمریت سے جمہوریت کے سفر کے دوران باسک علاقے کے لوگوں کو خود مختاری مل گئی۔ اس خود مختاری کے تحت باسک کے لوگوں کی اپنی پارلیمان ہے، اپنی پولیس ہے، اور تعلیم کے محکمے پر بھی اس کا کنٹرول ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے محاصل بھی خود جمع کرتے ہیں۔ لیکن اس خود مختاری کے باوجود ایٹا اور اس کے سخت گیر موقف کے حامل حمایتی مکمل آزادی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ اس جنگ میں گزشتہ تیس برس سے زیادہ کے عرصے میں آٹھ سو افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق سپین کی پولیس اور مقامی اور قومی سطح کے سیاستدانوں پر ہے جو علحیدگی پسندوں کے مطالبات کے خلاف ہیں۔ انیس سو ستر میں اس گروپ کے لوگوں کو ہلاک کرنے کی اوسط ہر سال سو افراد تھی۔ لیکن باور کیا جاتا رہا ہے کہ بعد میں ایٹا کی قوت کم ہوئی اور دو ہزارتین میں اس تنظیم کی پر تشدد کارروائیوں میں صرف تین افراد ہلاک ہوئے۔ آج ایٹا کا نیٹ ورک فرانس میں بھی ہے اور اس کے چند سو نوجوان باسک کی سرحدوں میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں سے وہ اپنے خوفناک مشن مکمل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
سپین میں ایٹا کے سیاسی دھڑے کو کعلدم قرار دے دیا گیا ہے اور توقع تھی کہ اس سے ایٹا کے مختلف یونٹوں کو فنڈ کی فراہمی اور حمایت میں کمی ہو جائے گی۔ تاہم یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ یہ تنظیم کتنی بڑی ہے۔ اس کی حمایت بھی کم ہوئی ہے اور اس کے انتہا پسند حمایتوں کی تعداد بھی کمی واقع ہوئی ہے۔اس کی ایک وجہ اعتدال پسند باسک قوم پرستوں کا رویہ اور دوسری وجہ ایٹا کا رائے عامہ سے رابطے میں نہ ہونا ہے۔ انیس سو ستانوے میں جب ایٹا نے باسک علاقے میں جب حکمران جماعت کے انتیس سالہ مقامی کونسل کو اغواء کیا تو یہ عمل ایٹا کے خلاف عوامی ردِ عمل کا اہم موڑ بن گیا۔ ایٹا کا مطالبہ تھا کہ کونسلر کی رہائی کے لئے اس کے چار سو ساٹھ قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ لیکن یہ مطالبہ منظور نہ کیا گیا۔ چنانچہ اس کونسلر کو سر میں دو مرتبہ گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ کونسلر کی ہلاکت کا عوامی سطح پر شدید ردِ عمل ہوا اور چار دن میں سپین کی سڑکوں پر ساٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ نکل آئے اور ان کا مطالبہ تھا کہ ایٹا کا خونی تشدد ختم کیا جائے۔ یہ عوامی احتجاج اسی قسم کا تھا جس طرح کا احتجاج فرینکو کے اقتدار کے خاتمے کے لئے ہوا اور خود ایٹا کے چند لوگ حکمراں جماعت کے کونلسر کی ہلاک کی مذمت پر مجبور ہوگئے۔ اگلے برس ایٹا نے غیر معینہ مدت تک کے لئے جنگ بندی کا اعلان کردیا لیکن دسمبر انیس سو ننانوے میں جب حکومت نے باسک کی آزادی کے لئے ایٹا کے مطالبات ماننے سے انکار کردیا تو یہ جنگ بندی بھی ختم کر دی گئی۔ سپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ایٹا سے مذاکرات نہیں کرے گی جب تک وہ تشدد کو مسترد نہیں کرتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||