سپین میں تین روزہ سوگ کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین میں جمعرات کے بم دھماکوں کے بعد حکام نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور جمعہ کو ان دھماکوں اور ان میں دو سو کے لگ بھگ افراد کی ہلاکت کےخلاف بیس لاکھ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان دھماکوں جو میڈرڈ کے تین ریلوے سٹیشنوں پر ہوئے تھے بار سو کے قریب افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان دھماکوں کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ صدر بش نے اس کارروائی کو بہیمانہ اقدام قرار دیا ہے اور سپین کے وزیر اعظم خوزے ماریہ ایتھنر سے فون پر بات چیت میں عوام سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ عیسائیوں کے پوپ نے اس حرکت کو خدا کے خلاف جارحیت قرار دیا ہے۔ فرانس، برطانیہ اور روس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان دھماکوں سے مزید قریبی بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کی نشاندہی ہوتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں سے بچا جاسکے۔
سپین میں حکام تحقیقات کررہے ہیں کہ ان دھماکوں میں ”باسک علیحدگی پسندوں " کا ہاتھ ہے یا پھر یہ کارروائی القائدہ کی ہے۔ پہلا دھماکہ اٹوشہ کے سٹیشن پر ہوا جس سے ایک ٹرین کے کئی ڈبے تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد دو دوسرے سٹیشنوں پر بھی دھماکے ہوئے۔ سپین کی حکومت نے ابتدائی طور پر دھماکوں کی ذمہ داری ”باسک علیحدگی پسندوں" پر عائد کی تھی تاہم سپین کے وزیر داخلہ انخل اسویس کا کہنا ہے کہ میڈرڈ کے نزدیک ایک قصبے سے جو چوری شدہ وین ملی ہے اس سے اسلحہ برآمد ہونے کے علاوہ قرآنی آیات کی ریکارڈنگ کی ایک ٹیپ بھی ملی تھی۔ اس کے علاو ہ لندن سے شائع ہونے والے ایک عربی روزنامے ”القدس العربی " نے بھی کہا ہے کہ انہیں ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں القائددہ سے منسوب ایک تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم امریکی تحقیقاتی ادارے کے حکام نے اس دعوے پر شک کا اظہار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||