سپین میں دھماکے، 190 سے زائد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے شہر میڈرڈ میں جمعرات کی صبح ریلوے کے تین سٹیشنوں پر دھماکوں کے نتیجے میں ایک سو نوے سے زائدافراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ پہلا دھماکہ اٹوشہ کے سٹیشن پر ہوا جس سے ایک ٹرین کے کئی ڈبے تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد دو دوسرے سٹیشنوں پر بھی دھماکہ ہوئے۔ سپین کی حکومت نے باسک علیحدگی پسند تنظیم ای ٹی اے پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اتوار کو سپین میں انتخابات سے قبل یہ دھماکے کیے۔ وزیر داخلہ نے کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ای ٹی اے نے ہی یہ دھماکے کیے ہیں۔ اٹوشہ کے ریلوے سٹیشن کے قریب ، جو میڈرڈ کے وسط میں ہے، سارے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ ہنگامی امداد کے لئے طبی عملہ بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گیا ہے اور اس واقعے میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔اس سے قبل حکومت نے ان دھماکوں کو قتل عام قرار دیا تھا۔
میڈرڈ کے سپتال زخمیوں سے اٹ گئے ہیں اور حکام نے شہریوں سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے ملک میں سہ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سپین کے وزیرِ اعظم نے عہد کیا ہے کہ دھماکے کرنے والوں کو نیست و نابود کر دیا جائے گا جبکہ عالمی سطح پر بھی ان دھماکوں کی مذمت جاری ہے۔ صدر بش نے کہا ہے یہ دہشت گردی کا بھیانک واقعہ ہے۔ سپین میں حکام نے بتایا ہے کہ دھماکوں سے پہلے کسی گروپ کی طرف سے بھی کوئی دھمکی نہیں دی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کل دس دھماکے ہوئے جبکہ پولیس نے تین مختلف مقامات پر چھپایا ہوا دھماکہ خیز مواد بھی ناکارہ بنایا ہے۔ تاہم اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ کل تیرہ دھماکے ہوئے۔
ایک سرکاری ملازم نے جو دھماکوں کے وقت پیلٹ فارم پر تھا ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جونہی دھماکے ہوئے لوگوں نے چیخنا اور چلانا شروع کر دیا اور وہ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ بعض لوگ بھگدڑ میں ایک دوسرے پر گرگئے۔ انہوں نے کہا: ’میں نے دیکھا کہ زمین پر گرے ہوئے لوگوں کے زخموں سے خون گویا امڈ رہا تھا۔‘ اٹھائیس سالہ ماریانو نے جو ٹرین پر سفر کر رہا تھا بتایا کہ جس ڈبے میں وہ بیٹھا تھا اس سے پچھلے والا ڈبہ دھماکہ ہوتے ہی ہوا میں کئی فٹ اوپر گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر زخمیوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ’میں نے ایک زخمی بچی ہاتھوں میں تھامی ہوئی تھی اور وہ میری بانہوں ہیں میں دم توڑ گئی۔ دھماکوں کے بعد سپین کی سیاسی جماعتوں نے جو انتخابی مہم میں مصروف تھیں، اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ای ٹی اے کے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کے بعد کئی لوگوں کا خیال اسلامی شدت پسندوں کی طرف جائے گا کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کی طرح سپین بھی دہشت گردی کے لئے ایک اہم اور بڑا ہدف ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||