BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 March, 2004, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپین: میڈرڈ میں تدفین شروع
 احتیجاجی مظاہرہ
میڈرڈ کے سوگواران
آج میڈرڈ میں جمعرات کے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا عمل شروع ہوا جس میں توقع ہے کے چالیس افراد کو دفنایا جا سکے گا۔

اس سے قبل جمہ کو میڈرڈ اور بارسیلونا میں ہی لاکھوں افراد نے جمعرات کے بم دھماکوں کے خلاف مظاہرہ کیا جن میں ایک سو اسی لوگ مارے گئے تھے۔ اسی احتیجاج میں یورپی رہنماؤں نے بھی سپین کی عوام سے یکجہتی کا یقین دلایا۔

 ’معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تمام خطوط پر کام کیا جا رہا ہے۔‘
وزیراعظم سپین کے الفاظ

ان مظاہروں سے قبل سپین کے وزیراعظم ہوزے ماریہ ازنار نے کہا تھا کہ گزشتہ جمعرات کے بم دھماکوں کے ذمہ داروں کا پتہ چلانے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے تحقیقات کے تمام زایوں کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔

ازنار کا کہنا تھا: ’معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تمام خطوط پر کام کیا جا رہا ہے۔‘

سپین میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے، پرچم سرنگوں ہے اور سرکاری اور غیرسرکاری ادارے بند ہیں۔

سپین کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزیراعظم کا شبہ ”باسک علیحدگی پسند" تنظیم ایٹا یعنی ای ٹی اے پر ہے تاہم القاعدہ سمیت دوسرے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

سپین میں عام انتخابات کا وقت اور بموں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد ایسے قرائن ہیں جو” ایٹا" یعنی ای ٹی اے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم دھماکوں سے پہلے خبردار نہ کیا جانا اور ایک گاڑی کا ملنا جس میں عربی زبان کی ایک ٹیپ موجود تھی دوسرے امکانات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر یہ ”ایٹا" کی کارروائی ہے تو یقیناً یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کی شدت پسندی اور بہیمیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ مربوط ہوگئی ہے۔

بعض دوسرے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ القاعدہ کی کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ عراق پر امریکی حملے میں سپین کی شرکت کا انتقام لینے کی دھمکیاں دیتی رہی ہے۔

اگر یہ ”ایٹا" کی کارروائی ہے تو یقیناً یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کی شدت پسندی اور بہیمیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ مربوط ہوگئی ہے۔
مبصرین کی آراً

پولیس کا کہنا ہے کہ اسے الکالا ڈی ہیناریز سے، جہاں سے دھماکوں کا شکار ہونے والی چار میں سے تین ٹرینیں روانہ ہوئی تھیں، ایک مسروقہ گاڑی ملی ہے جس میں عربی زبان میں ایک ٹیپ اور بموں کو کارآمد بنانے والے سات پرزے ملے ہیں۔ چوتھی ٹرین بھی اسی علاقے سے گزری تھی۔

دھماکوں کے چند گھنٹے بعد لندن میں ایک عربی روزنامے ”القدس" کو ایک بیان ملا جو مبینہ طور پر ”ابو حفث المصری بریگیڈ" کی طرف سے تھا۔ یہ تنظیم خود کو القاعدہ سے وابستہ قرار دیتی ہے۔

تاہم واشنگٹن میں مقیم بی بی سی کی نامہ نگار جسٹِن ویب کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے ”المصری بریگیڈ" کو معتبر نہیں سمجھتے۔

گزشتہ سال اسی تنظیم نے نیویارک اور کینیڈا میں بجلی کے نظام میں خلل ڈالنے کا دعوٰی بھی کیا تھا۔

امریکی حکام یہ بھی کہتے ہیں کہ القاعدہ کی روش نہیں کہ وہ فوراً ذمہ داری قبول کرے۔

ادھر بعض مبصرین ”ایٹا" کو ایک شکست خوردہ قوت گرداننے لگے تھے۔ گزشتہ برس صرف تین افراد باسک قوم پرستوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے جو اس کی تیس برسوں پر محیط کارروائیوں کے نتیجہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔

ایک مبصر میا سور کا کہنا ہے کہ ایٹا کے خلاف سپین اور فرانس نے سخت اقدامات کیے ہیں جس کے نتیجے میں ہو سکتا ہے کہ اس تنظیم کی قیادت زیادہ سخت گیر لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہو اور انہوں نے اپنا طریقہ واردات بدل لیا ہو۔

ادھر پچھلے برسوں میں سپین میں بعض افراد کو القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔

نامہ نگاروں نے یہ خیال بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ممکن ہے القاعدہ اور باسک قوم پرستوں نے مل کر کارروائی کی ہو۔ بی بی سی کے سلامتی امور سے متعلق نامہ نگار فرینک گارڈنر کہتے ہیں کہ حال ہی میں عراق میں ہونے والی کارروائیوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف تنظیمیں اور گروہ ایک مشترکہ مقصد کے لئے کس طرح مل کر کام کر سکتے ہیں۔

حقیقت حال کا سراغ شاید ٹرین کے ملبے سے مل سکے۔ اور تفتیش کار یقیناً خودکش بمباروں کی کارروائی کے امکان پر بھی غور کر رہے ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد