میڈرڈ بمباروں کی شناخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کی پولیس نے مراکش کی قومیت رکھنے والے چھ افراد کی شناخت کرتے ہوۓ ان پر میڈرڈ کے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا خیال ظاہر کیا ہے۔ان بم حملوں میں دو سو افراد ہلاک ہوۓ تھے۔ سپین کے ایک اخبار ”ال پیس" کے مطابق شناخت کیۓ گئے چھ اشخاص میں سے ایک پولیس کی تحویل میں پہلے سے موجود ہے۔ اس ایک مشتبہ شخص کا شمار ان دیگر پانچ افراد میں ہوتا ہے جنہیں پولیس نے ان دھماکوں کے شبہے میں ہفتے کے روز گرفتار کیا تھا۔
جیسے جیسے ان بم دھماکوں میں مسلم شدت پسندوں کے ملوث ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے یورپی ممالک کے لیڈران توقع ہے کے اختتام ہفتہ سکیورٹی سے متعلق ہنگامی اجلاسوں کا سلسلہ شروع کریں۔ اس بارے میں اب تک کوئی سرکاری بیان تو نہیں آیا ہے لیکن اخبار ”ال پیس" کا کہنا ہے کہ مراکش نژاد پانچ افراد کی شناخت کی جا چکی ہے لیکن وہ اب تک مفرور ہیں۔ ان پانچوں نے مبینہ طور پر تیس برس کے جمال زوگم کے ساتھ مل کر یہ بم دھماکے کیئے تھے۔
سکیورٹی زرائع نےاخبار سے بات کرتے ہوۓ کہا ہے کہ یہ چھ افراد ان بم دھماکوں میں ملوث اس گروہ کا حصہ ہیں جن کا ان بم دھماکوں میں ہاتھ ہے اور ممکن ہے کہ مختلف ممالک سے شدت پسندوں نے مل کر اس کارروائی میں شمولیت اختیار کی ہو۔ میڈرڈ میں موجود بی بی سی نامہ نگار کرس مورس کے مطابق تحقیقات گو کے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن یہ ایسی خبریں ضرور گردش کر رہی ہیں کہ ان دھماکوں میں سر گرم مسلم شدت پسند ”ابومصاب ال زرقوی" کا ہاتھ ہو۔ یاد رہے کے ال زرقوی امریکہ کو عراق سمیت کئی ممالک میں کئیے گئیے حملوں میں مطلوب ہیں۔ جمال زوگم دیگر دو مراکش نژاد اور دو بھارتیوں کے ساتھ سپین کی پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ان پانچوں کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ایک بیگ سے دھماکہ خیز مواد والا موبائیل فون پولیس کے ہاتھ آیا جس میں موجود مواد پھٹنے میں ناکام رہا۔ معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ چار ٹرینوں میں نصب دس بموں کو وقت پر چلانے کے لیۓ موبائیل فونز کا استعمال کیا گیا تھا۔ اخبار ”ال پیس" کے مطابق گرفتار کیئے گئے جمال زوگم کو حملے میں بچ جانے والے مسافروں نے شناخت کیا ہے۔ جمال زوگم کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تعلق سپین میں ”القاعدہ سیل" کے مبینہ سربراہ عماد یرکاس عرف ابو داہدداہ سے ہے۔ اس کے علاوہ مسٹر زوگم پر یہ بھی شبہہ ہے کہ وہ گزشتہ مئی کے کاسابلانکہ بم دھماکوں میں بھی ملوث رہے ہوں جن میں پنتالیس لوگ مارے گۓ تھے۔ مراکش کے سکیورٹی حکام سپین کی پولیس سے مکمل تعاون تو کر رہے ہیں مگر مراکش کے عوام نے ان کے ملک پر ان حملوں کے سلسلے میں کیئے جانے والے شکوک پر خاصی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||