’فاقوں مرتے ہوئے‘ عراقی قیدی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکومت نے کہا ہے کہ بغداد میں سیکورٹی فوج کے زیرِ حراست قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ قیدی جن میں سے اکثر کو بظاہر خوراک نہیں ملی تھی یا ان پر تشدد کیا گیا تھا، اس وقت سامنے آئے جب اتوار کے دن امریکی فوج نے وزراتِ داخلہ کی ایک عمارت کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا۔ امریکی فوج نے یہ کارروائی اس وقت کی جب اکثر قیدیوں کے خاندان نے اپنے اہلِ خانہ کی خیریت کے بارے میں ان سے پوچھنا شروع کیا۔ ان میں سے اکثر قیدی سنی ہیں۔ عراق کے وزیرِ اعظم نے وعدہ کیا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو تلاش کیا جائے گا۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کا کہنا ہے کہ غیرمناسب سلوک کا شکار ہونے والے ان قیدیوں کا اچانک ظاہر ہونا عام عراقیوں کے لیے حیرت کی بات نہیں ہے۔ سیکورٹی فوج میں اہلِ تشیع کی اکثریت کی وجہ سے سنی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات عام ہیں۔ اس شبہے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ جہاں سے یہ قیدی ملے ہیں ممکن ہے کہ وہ عمارت بدر برگیڈ نامی ملشیا کے اڈے کے طور پر بھی استعمال ہوئی ہو۔ وزیرِ اعظم ابراہیم جعفری نے اخبارنویسوں کو بتایا ’مجھے بتایا گیا کہ وزارتِ داخلہ کی عمارت میں ایک سو تہتر قیدی ہیں جن کی حالت خراب ہے۔ اس طری کی بات ہوئی ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو اب بہتر جگہ پر رکھا گیا ہے اور انہیں طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں عراق: بدسلوکی کے تازہ واقعات 16 August, 2005 | آس پاس امریکی فوجی: فرد جرم عائد30 October, 2005 | آس پاس امن افواج کی جنسی زیادتیاں08 January, 2005 | آس پاس قیدیوں پر تشدد کے نئے شواہد15 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||