امن افواج کی جنسی زیادتیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کے کانگو میں اس کی امن فوج کے بعض ارکان عورتوں اور بچوں سے جنسی زیادتی کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ان تحقیقات کا آغاز ان اطلاعات کے بعد کیا گیا کہ کانگو کے مشرقی شہر بنئی میں متعین امن فوج کے ارکان جنسی زیادتیوں میں ملوث ہیں اور عورتوں اور لڑکیوں کو پیسے دے کر ورغلاتے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق ان میں سے بعض بچوں کی عمریں تیرہ سال تک بتائی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے ستر سے زائد جن معاملات میں سے جن چھ واقعات کی تحقیات ان میں حقائق الزامات کی تائید کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ امن فوج کے ارکان بالعموم کھانے پینے کی اشیا اور رقوم کے بدلے میں جسمانی لذت حاصل کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار لیسی سونگ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ کانگو میں متعین کی جانے والی امن فوج کے گیارہ ہزار ارکان میں یورا گوئے، مراکش، تیونس، جنوبی افریقہ، اور نیپال کے فوجی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جن فوجیوں پر الزامات ثابت ہوں گے انہیں واپس ان کے ملکوں میں بھیج دیا جائے گا جہاں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||