عراق میں خود کش حملے، 70 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جمعہ کے روز سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم از کم ستر لوگ ہلاک اور تقریباً سو لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی کم از کم تعداد ستر ہے۔ یہ افراد ان دو دھماکوں میں مارے گئے جو عراق کے شمال مشرق میں خانقین میں واقع اہلِ تشیع کی دو مساجد میں ہوئے۔ خانقین میں کرد اور شیعہ رہتے ہیں اور یہ جگہ ایرانی سرحد کے قریب ہے۔ اس سے قبل کار بم کے دو دھماکے ہوئے تھے جن میں چھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکے بغداد میں وزارتِ داخلہ کی عمارت کے باہر ہوئے تھے۔ یہ دھماکے بغداد میں وزارتِ داخلہ کی عمارت کے باہر ہوئے جو اس وقت خفیہ جیلوں میں قیدیوں پر مبینہ تشدد کے حوالے سے بدنام ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نشانہ قریب ہی واقع ایک ہوٹل ہو جہاں غیرملکی صحافی قیام کرتے ہیں۔ شیعہ مساجد میں حملے کے ذمہ دار خود کش بمبار بتائے جاتے ہیں جنہوں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اس وقت اڑا دیا جب لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد میں آئے ہوئے تھے۔ خانقین میں شیعہ مساجد پر خود کش حملے کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ دیالہ کی صوبائی کونسل کے رہنما ابراہیم حسن البجلان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مقامی ہسپتال میں پچپن افراد کی لاشیں وصول کی گئیں جبکہ باسٹھ زخمیوں کو داخل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا: ’دو افراد جنہوں نے اپنے جسموں سے دھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا خانقین کی بڑی اور چھوٹی مسجد میں داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘ بجلان کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے دونوں مسجدیں بری طرح تباہ ہوگئی ہیں اور خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے لوگ دبے ہوئے ہیں۔ اے ایف پی کے اس واقعہ کے بعد سیکورٹی افواج متاثرہ علاقے میں پہنچ گئیں اور وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں عراق:دس فیصد غیرملکی جنگجو18 November, 2005 | آس پاس عراق سے امریکی فوج کی واپسی؟16 November, 2005 | آس پاس ’عراقی سیکورٹی سنبھالیں‘15 November, 2005 | آس پاس عنان عراق کے غیر متوقع دورے پر12 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||