عراق سے فوج کی واپسی کا پلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش ایک خطاب کے دوران امریکیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرنے والے ہیں کہ ان کی حکومت کے پاس عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں ایک واضح لائحۂ عمل ہے۔ بدھ کے روز میریلینڈ میں اس خطاب کے دوران صدر بش عراق سے افواج کی واپسی سے متعلق عراق میں ’فتح کے لیے ایک قومی لائحۂ عمل‘ پیش کریں گے۔ وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہوگا جب عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے بارے میں حکومت کی حکمتِ عملی کسی واحد دستاویز میں دنیا کے سامنے آئے گی۔ صدر بش کا یہ خطاب وہائٹ ہاؤس کے اس بیان کے ایک روز بعد منعقد کیا جارہا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اگلے سال عراق میں اپنی افواج کم کرے گا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹِن ویب کا کہنا ہے کہ عراق سے امریکی افواج کی واپسی پر حکومت کی بیان بازی میں تبدیلی آئی ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ عراقی سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت بہتر ہوتی جا رہی ہے جس سے امریکہ کو اپنی فوج میں کمی لانے میں سہولت حاصل ہوجائے گی۔ بش انتظامیہ اکثر اس امید کا ذکر کرتی رہی ہے کہ اگلے برس تک عراق سے کچھ امریکی فوج ضرور واپس آ جائے گی۔ اس وقت عراق کے مختلف شہروں میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب امریکی فوجی ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ اس بات کی امید ہے کہ دو ہزار چھ میں عراق کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی اور نتیجتا امریکہ وہاں سے اپنی فوج کی تعداد کم کر سکے گا۔ حال ہی میں ایریزونا ریاست میں خطاب کے دوران امریکی صدر بش نے کہا تھا کہ عراق سے امریکی فوج کی واپسی کا انحصار عراق کی اپنی سکیورٹی فوج کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ بغاوت اور مزاحمت سے کیسے نمٹتی ہے۔ تاہم امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کا کہنا ہے کہ پہلے ہی عراقی فوجوں نے سکیورٹی کے کچھ اہم آپریشن سنبھال رکھے ہیں۔ ’ہمیں عراقی فوج کے حوالے فوجی اڈے بھی کر رہے ہیں اور ذمہ داریاں بھی لیکن جو لوگ عراقی سکیورٹی فوج کو رسوا کر رہے ہیں وہ بالکل غلط ہیں۔‘ امریکہ کے محکمۂ دفاع کے اہلکاروں کے مطابق عراقی انتخابات کے بعد جو پندرہ دسمبر کو ہوں گے، ہو سکتا ہے کہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد میں کچھ کمی ہونی شروع ہو جائے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں بش انتظامیہ پر بہت زیادہ دباؤ ہے کہ وہ اس بات کا عملی ثبوت فراہم کرے کے عراق کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے۔ بدھ کو صدر بش کا خطاب عراق کی صورتِ حال پر اہم پالیسی ثابت ہوسکتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اس خطاب سے اس خیال کو مزید تقویت مل سکتی ہے کہ اب بش انتظامیہ عراق چھوڑنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں برطانوی فوج: عراق سے اگلے برس واپس13 November, 2005 | آس پاس ’عراقی سیکورٹی سنبھالیں‘15 November, 2005 | آس پاس بغداد: کار بم دھماکے ، چھ ہلاک18 November, 2005 | آس پاس ہم قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: بش07 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||