برطانوی فوج: عراق سے اگلے برس واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے صدر جلال طالبانی نے پیشگوئی کی ہے کہ برطانوی فوجی عراق سے اگلے سال کے آخر تک واپس چلے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عراق سے کثیرالقومی فوج فوراً چلی گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہوں گے جس سے عراق میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ جلال طالبانی نے آئی ٹی وی ون کو بتایا کہ عراقی نہیں چاہتے کہ غیر ملکی فوج غیر معینہ مدت کے لیے عراق میں رہے۔ ’ایک سال کے اندر اندر، عراقی فوج ملک کے جنوب میں برطانوی فوجیوں کی جگہ تعیناتی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ گزشتہ ماہ برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر مائیک جیکسن نے کہا تھا کہ عراق سے برطانوی فوجیوں کی واپسی کی کوئی تاریخ طے کرنا ’بیوقوفی‘ ہوگی۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سال میں عراق کی فوج مضبوط ہو جائے گی لیکن برطانوی فوج کو واپس بلانے کا فیصلہ پیچیدہ ہوگا اور کس علاقے سے فوج کو کب ہٹانا ہے یہ فیصلہ صورتِ حال پر منحصر ہوگا۔ انٹرویو میں جلال طالبانی سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پیشگوئی کہ برطانوی فوج اگلے برس کے آخر تک عراق سے واپس آ جائے گی، وعدہ کہلا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں عراقی صدر نے جو کرد رہنما ہیں، کہا کہ وہ اس معاملے پر مذاکرات نہیں کر رہے ہیں اور جو انہوں نے کہا ہے وہ محض ایک اندازہ ہے۔ عراقی صدر نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ برطانوی عوام چاہتے ہیں کہ برطانوی فوجی عراق سے واپس آ جائیں۔ ’برطانوی عوام کو یہ جاننے کا مکمل استحقاق ہے کہ ان کے بیٹے گھر کب لوٹیں گے، خاص طور پر جب انہوں نے اپنا اصل ہدف یعنی عراق سے آمریت کا خاتمہ، حاصل کر لیا ہے۔ تاہم عراق کے صدر کا کہنا تھا کہ عراق سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی بتدریج ہونی چاہیے اور اس فیصلے کے لیے عراقی حکام اور اتحادی فوج فراہم کرنے والے ممالک میں بہتر رابطہ ہونا چاہیے۔ | اسی بارے میں عنان عراق کے غیر متوقع دورے پر12 November, 2005 | آس پاس رائس اچانک عراق پہنچ گئیں 11 November, 2005 | آس پاس امریکی افواج کو مزاحمت کا سامنا06 November, 2005 | آس پاس بغداد میں خود کش حملہ، تیس ہلاک10 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||