مزاحمت کاروں کے نت نئے طریقے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے جیسے عراق میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے امریکیوں کے ذہن میں یہ خیال پنپتا جا رہا ہے کہ مزاحمت کار اب زیادہ بہتر تکنیک اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ بدھ کو ہدیتھہ نامی قصبے میں چودہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے عراق میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ہدیتھہ کے قصبے کے ساتھ عراق اور شام کی سرحد واقع ہے اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے امریکی فوج کے مطابق در اندازی ہوتی ہے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں نے امریکی فوجی گاڑیوں کی آہنی چادریں اڑانے کا انتظام کر لیا ہے اور وہ اب زیادہ جدید ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ یہ امریکیوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والی عراقی افواج کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔ وہ مزاحمت کاروں کی قوت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مزاحمت کاروں کی حملہ کرنے کی قوت کو نقصان پہنچایا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حالات بہت نازک ہیں اور عراق کے نئے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ عراق کے نئے آئین کی تیاری زوروں پر ہے اور آئین پر ریفرنڈم اور اس برس کے اختتام سے قبل انتخابات کا مرحلہ بھی درپیش ہے۔ اس سیاسی عمل کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس سے مزاحمت میں کمی آئے گی۔ موجودہ عراقی حکومت اور اس کے بین الاقوامی حامیوں کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں کا بنیادی مقصد سیاسی عمل کو متاثر کرنا ہے۔ عراق کے وزیرِاعظم اور ان کے سکیورٹی وزراء نے ایک نیا سکیورٹی منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کو بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ ہم حالتِ جنگ میں ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مخصوص انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے خصوصی سکیورٹی کا انتظام کیا جائے گا اور عراق کی سرحدوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے عراقی وزیرِ خارجہ پر زور دیا کہ وہ مزاحمت کے خاتمے کے لیے ہمسایہ ممالک سے بھی رابطہ کریں۔ اس وقت عراق میں خواہشات کے تصادم کا وقت ہے اور امریکیوں کو اپنے ساتھیوں کے مارے جانے اور اپنے خلاف استعمال کیے جا رہے خطرناک طریقوں سے نمٹنے کی فکر ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||