BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 July, 2005, 03:24 GMT 08:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی مزاحمت: بش انتظامیہ ذمہ دار
عراق
عراق میں سترہ سو امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں
امریکہ میں سیاسی امور پر تحقیق کرنے والے ایک مقتدر ادارے ’کونسل آن فارن رلیشن‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں عراق میں جاری مزاحمت کا ذمہ دار بش انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیا ہے۔

اس ادارے نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ بش انتظامیہ نے عراق پر حملے کے بعد کی صورت حال کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے وہاں مزاحمت کو تقویت ملی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ نے حملے کے بعد صورت حال کو قابو میں رکھنے اور تعمیر نو کے کام کی نگرانی کرنے کے لیے فوج کی تعداد میں اضافہ نہ کرکے ایک فاش غلطی کی ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ حملے کے فوج کی تعداد حملے کے بعد صورت حال کوقابو میں رکھنے اور تعمیر نو کے کام کی نگرانی کے لیے کافی نہیں تھی جس کی وجہ سے امریکی فوج کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد کی صورت حال کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے تھی کہ جتنی کے حملے کو دی گئی تھی۔

ادارے نے تجویز دی ہے کہ جنگ سے متاثرہ ہونے والے ملکوں کی تعمیر کے لیے عالمی سطح پر کئی ارب ڈالر کا فنڈ قائم کیا جانا چاہیے۔

یہ رپورٹ جس میں عراق پر امریکی حملے کی تنقید کی گئی ہے، قومی سلامتی کے دو سابق مشیروں ڈیموکریٹک پارٹی کے سنڈی برگر اور رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے برینٹ سکوکرافٹ نے مرتب کی ہے۔

عراق پر خفیہ دستاویز
برطانیہ عراق سے فوج کیسے نکال سکے گا؟
66عراق میں تباہی
عراق میں خود کش حملوں کی تباہی کے مناظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد