عراقی مزاحمت: بش انتظامیہ ذمہ دار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سیاسی امور پر تحقیق کرنے والے ایک مقتدر ادارے ’کونسل آن فارن رلیشن‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں عراق میں جاری مزاحمت کا ذمہ دار بش انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیا ہے۔ اس ادارے نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ بش انتظامیہ نے عراق پر حملے کے بعد کی صورت حال کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے وہاں مزاحمت کو تقویت ملی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بش انتظامیہ نے حملے کے بعد صورت حال کو قابو میں رکھنے اور تعمیر نو کے کام کی نگرانی کرنے کے لیے فوج کی تعداد میں اضافہ نہ کرکے ایک فاش غلطی کی ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ حملے کے فوج کی تعداد حملے کے بعد صورت حال کوقابو میں رکھنے اور تعمیر نو کے کام کی نگرانی کے لیے کافی نہیں تھی جس کی وجہ سے امریکی فوج کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد کی صورت حال کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے تھی کہ جتنی کے حملے کو دی گئی تھی۔ ادارے نے تجویز دی ہے کہ جنگ سے متاثرہ ہونے والے ملکوں کی تعمیر کے لیے عالمی سطح پر کئی ارب ڈالر کا فنڈ قائم کیا جانا چاہیے۔ یہ رپورٹ جس میں عراق پر امریکی حملے کی تنقید کی گئی ہے، قومی سلامتی کے دو سابق مشیروں ڈیموکریٹک پارٹی کے سنڈی برگر اور رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے برینٹ سکوکرافٹ نے مرتب کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||