BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حالات بدتر، لیکن عراقی پُرامید
بی بی سی سروے
بی بی سی ی جانب سے کرائے جانے والے سروے کا ایک گرافک چارٹ
عراق میں رائے عامہ کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باوجود عراقی عوام اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔

یہ سروے بی بی سی، اے بی سی نیوز اور کئی بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے مشترکہ طور پر کروایا ہے۔

جائزے کے مطابق تقریباً ستّر فی صد لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی اچھی یا بہتر طور پر گزر رہی ہے۔

تاہم جائزے کے مطابق پچاس فی عراقیوں کے خیال میں ملک کی مجموعی صورتحال ابتری پر مائل ہے۔

سروے میں شامل ایک ہزار سات سو افراد کی اکثریت عراق پر امریکی یلغار کی مخالف تھی، جبکہ دو تہائی سے زیادہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں غیرملکی افواج کی مستقل موجودگی کے خلاف ہیں۔ تاہم کئی لوگوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ امن و امان کی صورتحال قابو میں آنے تک غیرملکی فوجوں کو عراق میں رہنا چاہئے۔

عراقی فوجی
امریکہ کہتا ہے کہ عراقی فوج ملکی سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہو رہی ہے

یہ سروے عراق کے طول و عرض میں بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے کیا گیا۔ تاہم صرف ان علاقوں تک محدود تھا جہاں سلامتی کی ضمانت تھی۔

ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے باوجود ان لوگوں کی اکثریت متحدہ عراق اور مضبوط مرکز کی حامی ہے۔

بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار پال رینالڈز کا کہنا ہے کہ سروے میں ایک طرح کی پرامیدی کی جھلک تو موجود ہے کہ لیکن ملک میں مجموعی طور پر افراتفری کی تصویر پیش کرتا ہے۔

ان کے مطابق سروے کے نتائج امریکی صدر بش کے موقف سے مشابہت رکھتے ہیں۔

تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ناقدین کے خیال میں اس سروے سے سوائے اس کے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا کہ عراقیوں میں مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اور یہ کہ سروے سے جو رنگین تصویر ابھرتی ہے اس میں خال خال، وسطی عراق میں، عدم اطمینان بھی جھلکتا ہے۔

جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں نئی حکومت کی پہلی ترجیح کیا ہونی چاہئے تو ستاون فی صد کا جواب تھا: امن عامہ۔ عراق میں امریکی سالاری میں موجود افواج کے انخلا کو دوسری اور ملکی ڈھانچے کی تعمیر کو تیسری ترجیح قرار دیا گیا ہے۔

پچاس فی صد لوگوں کے خیال میں ملک کو ایک طاقتور حکمراں کی ضرورت ہے جبکہ اٹھائیس فی صد لوگوں کے خیال میں جمہوریت زیادہ اہم ہے۔

پچیس فی صد لوگوں کو اپنے سیاسی جبکہ سڑسٹھ فی صد لوگوں کو اپنے مذہبی رہنماؤں پر اعتماد ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد