عراق: مضبوط قیادت کی خواہش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی اتحادی فوج کے قبضے، صدام حکومت کے خاتمے، ملک کی عبوری حکومت کے لیے جنوری میں ہونے والے انتخابات، آئین کی تشکیل اور ریفرنڈم میں آئین کی منظوری کے بعد ملک میں آئینی حکومت کے لیے انتخابات ہورہے ہیں۔ ان تمام واقعات کے بعد خیال ہے کہ ملک میں جمہوریت کا دور دورہ ہو گا، مزاحمت دم توڑ جائے گی اور ملک سے غیر ملکی فوجی دستوں کا انخلاء ایک حقیقت بن جائے گا۔ ان تمام باتوں میں سب سے اہم بات ملک میں حقیقی آئینی حکومت کی تشکیل ہے۔ امریکی صدربش کے لہجے میں بھی عراق کے حوالے سے بڑی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دو ہزار پانچ صرف عراق نہیں بلکہ پورے مشرق وسطی کے لیے ایک یادگار سال ہو گا۔ عراق کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ابھی عراق میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے لیکن عراقیوں کی حوصلہ افزائی پر ان کا شکریہ، دو ہزار پانچ عراق، مشرق وسطی اور آزادی کی تاریخ کے لیےایک ٹرننگ پوائنٹ ہو گا‘۔
ان تمام باتوں سے قطع نظر عراقی انتخابات بڑے اہم ہیں اور ان کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ ان انتخابات کے بارے میں عراقی عوام کیا کہتے ہیں وہ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ عوام کے خیالات جاننے کے لیے آکسفررڈ ریسرچ انٹرنیشنل نے بی بی سی اور دوسرے ذرائع ابلاغ کی جانب سے رائے عامہ پر مشتمل ایک سروے کیا۔ رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی کہ عراقیوں کا جمہوریت پر یقین ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک میں ایک ’مضبوط رہنما‘ کی خواہش بھی ظاہر کی۔ سروے میں شامل اس سوال پر کہ دسمبر دو ہزار پانچ کے انتخابات کے بعد ان کے خیال میں عراق کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ تو اکیاون فیصد کا جواب تھا کہ ’ایک مستحکم رہنما‘ جبکہ صرف اٹھائیس فیصد کا جواب ’عراق میں جمہوریت‘ تھا۔ ایک اور مختلف سوال پر کہ عراق میں اب کیا چیز ضروری ہے؟ تو پچہتر فیصد نے ’مضبوط رہنما‘ اور چوہتر فیصد نے ’جمہوریت‘ کو حالیہ وقت کی ضرورت قرار دیا۔ عراق کی بنیادی سنی آبادی میں ایک مضبوط رہنما کا مطالبہ زیادہ کھل کر سامنے آیا ہے جہاں مزاحمت زیادہ شدید ہے جبکہ کرد علاقوں میں اتنی شدید نہیں اور وہاں باقی حصوں کی نسبت زیادہ بہتر صورت حال ہے۔ رائے عامہ کے اس حالیہ جائزے کے مطابق کسی بھی انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی امیدوار کوبھرپور عوامی تائید حاصل نہیں جس کے بعد قیاس ہے کہ ملک میں انتخابات کے بعد شیعہ اکثریت پر مبنی اتحادی حکومت وجود میں آئے گی۔ اس سروے میں 83 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ووٹ کے ذریعے اس انتخابی عمل میں حصہ لیں گے۔ لوگوں کی جانب سےان انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کی خواہش کے بعد سنی قیادت کو اس بار ان انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ عوام غیر ملکی فوجیوں کے حق میں نہیں، وہ ملک کا نظم و نسق عراقی فوج اور پولیس کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات حالیہ امریکی پالیسی کہ ملک کا کنٹرول عراقی فوج کے ہاتھوں میں دیا جائے اور مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے عراقی خود حل تجویز کریں، کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ ایسا ہو یعنی ملک کا کنٹرول منتخب حکومت کے ہاتھوں میں چلا جائے۔ عوامی رائے عامہ کے جائزے اور سرکاری اعدادوشمار اس ساری صورت حال کا ایک حصہ ہیں جو بحرحال تصویر کی مکمل شکل واضح نہیں کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق سے فوج کی واپسی کا پلان30 November, 2005 | آس پاس عراق میں اغواء ہونے والوں کی وڈیو فلم نشر30 November, 2005 | آس پاس عراق میں ایرانی باشندوں کا اغواء 12 December, 2005 | آس پاس حالات بدتر ہوئے ہیں: عراقی عوام11 December, 2005 | آس پاس حالات بدتر، لیکن عراقی پُرامید12 December, 2005 | آس پاس عراقی تارکین وطن کی ووٹنگ شروع14 December, 2005 | آس پاس عراق میں ووٹنگ کے آغاز پر دھماکہ 15 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||