صدام دور کی اہم شخصیات رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے صدام حسین کے دور حکومت کی بعض اہم شخصیات کو رہا کر دیا ہے۔ تاہم فوج نے رہا ہونے والے کسی بھی شخص کا نام نہیں بتایا اور حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’شروع میں بہت سے لوگوں کو ممکنہ جنگی جرائم میں ملوث ہونے یا اہم گواہوں کے طور پر پکڑا گیا تھا‘۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ حالیہ انتخابات سے قبل سنی آبادی کو خوش کرنے کے لیے ان شخصیات کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ خبروں کے مطابق رہا ہونے والے قیدیوں کی تعداد آٹھ سے چھبیس کے درمیان ہے۔ بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل بیری جانسن کا کہنا ہے کہ آٹھ ایسے لوگوں کو رہا کیا گیا ہے جن کے بارے میں یہ اطمینان کر لیا گیا تھا کہ وہ اب امن کے لیے خطرہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’انہیں عراقی حکومت کے ساتھ کئی ماہ سے جاری مشاورت کے بعد رہا کیا گیا ہے‘۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک عہدے دار کے مطابق تقریباً چوبیس افراد کی رہائی عمل میں آئی ہے۔ ان کے مطابق رہا ہونے والوں میں ڈاکٹر رہاب راشد اور ڈاکٹر ہدیٰ صالح مہدی عماش شامل ہیں جو کہ صدام دور حکومت میں ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے کام کرتی تھیں۔ ڈاکٹر رہاب راشد کو ’ڈاکٹر جرم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ ہدیٰ صالح مہدی کو ’مسز اینتھریکس‘ کہا جاتا ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ وہ صدام حسین کے دور حکومت میں کیمیائی ہتھیار بنانے میں ملوث تھیں۔ ٹی وی چینل العربیہ کے مطابق دو سابق وزرا اور صدام حسین کے بیٹے اودے حسین کے ایک قریبی ساتھی بھی عراق چھوڑ کر اردن جا رہے ہیں۔ جن وزرا کے بارے میں یہ خبر گردش کر رہی ہے ان میں سابق وزیر تعلیم اور ایٹمی توانائی کے ادارے کے سابق سربراہ عبدالخالق اور ٹرانسپورٹ کے سابق وزیر ستم القد شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں عراق: جرمن مغوی رہا کر دی گئی18 December, 2005 | آس پاس ’تاریخی‘ انتخابات پر خراجِ تحسین16 December, 2005 | آس پاس عراقی پارلیمان کے لیے ووٹنگ، دھماکے15 December, 2005 | آس پاس عراقی الیکشن،’ہائی ٹرن آؤٹ‘15 December, 2005 | آس پاس عراق: مضبوط قیادت کی خواہش 15 December, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||