BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 November, 2005, 18:55 GMT 23:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوامِ متحدہ کی تشویش
عراق
عراقیوں کو سیکیورٹی کے نام پر گرفتار کیا جا رہا ہے
عراق میں اقوامِ متحدہ کے مشن (Unami) نے عدالتی نگرانی کے بغیر امریکی اتحادی فوجوں کے ہاتھوں عراقیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مشن نے اپنی ایک رپورٹ میں اس ضمن میں فوری اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی گرفتاریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عراقی وزارت برائے انسانی حقوق کے مطابق کل 23394 قیدیوں میں سے 1559 قیدی اتحادی فوج کی تحویل میں ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے کیسوں پر تیزی سے نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کیسوں کو عراقی عدالتوں میں بھیجنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری قسم ان کیسوں کی ہے جنہیں 2004 میں قائم کیےگئے جیل بورڈ کے حوالے کیا جا رہا ہے تاکہ ان کیسوں کو تیزی سے نمٹایا جا سکے۔

ایک علیحدہ واقعہ میں دو سابق عراقی قیدیوں خالد اور تھاہی نے بتایا کہ ان پر 2003 میں قید کے دوران امریکی فوجیوں نے بارہا تشدد کیا۔ ایک موقع پر انہیں یہ دھمکی بھی دی گئی کہ انہیں شیروں کے پنجرے میں پھینک دیا جائے گا۔اس کے علاوہ انہیں متعدد بار تضحیک کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

یہ دو سابقہ قیدی اور چھ دیگر عراقی امریکی سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے خلاف دعویٰ دائر کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہیں انسانی حقوق کی دو تنظیموں ’امریکن سول لبرٹیز یونین‘ اور ’ہیومن رائٹس فرسٹ‘ کی مدد حاصل ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان پال بوئس کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین برس میں کسی فوجی قید خانے میں شیروں کی موجودگی کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔ انہوں نے کہا’ ہم قیدیوں سے بد سلوکی کے ہر الزام کے ساتھ بہت سختی سے نمٹتے ہیں‘۔

عراقی سیکیورٹی
قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

اقومِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ یکم ستمبر سے تیس اکتوبر 2005 تک کے عرصہ سے متعلق ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ قیدیوں کی تعداد بڑھتی گئی جس کی وجہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں تھیں، جو سیکیورٹی کے لیے کی گئی فوجی کاروائیوں کے دوران عمل میں آئیں‘۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو سیکیورٹی کے نام پر اٹھایا گیا۔ جیل بورڈ ہر ہفتے تقریباً 250 کیس نمٹاتا رہا ہے جس سے کچھ لوگوں کی رہائی بھی عمل میں آئی ہے۔

لیکن اس ادارے کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ لوگوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک میں عراقی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ’ فوری طور پر اس امر کی ضرورت ہے کہ عدالتی کاروائی کے بغیر ایسی لمبی قید میں رہنے والوں کو قانونی چارہ جوئی کا موقع فراہم کیا جائے‘۔

اقوامِ متحدہ نے متعدد بار قیدیوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جنہیں عدالتی نگرانی کے بغیر قید میں رکھا گیا ہے۔ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ ہزاروں لوگ بغیر کسی الزام کے ایک لمبے عرصے سے قید میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد