عراق: جرمن مغوی رہا کر دی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اغوا ہونے والی خاتون کو رہا کر دیا گیا ہے۔ رہا کی جانے والی سوزانے اوستھاف ایک ماہر آثار قدیمہ ہیں اور ان کو تین اور مغربی باشندوں کے ساتھ اغوا کیا تھا۔ اغو ہونے ہونے والوں میں ایک برطانیہ کے شہری ہیں جبکہ دو کا تعلق کینیڈا سے ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عراق میں گزشتہ ڈیڑھ سال میں دو سو کے قریب غیر ملکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے۔اغوا کاروں نے بعض مغویوں کو رہا کر دیا لیکن بعض کو ہلاک بھی کیا ہے۔ اغوا کاروں نے جرمنی کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عراقی حکومت کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر دی ورنہ اس کی شہری سوزانے اوستھاف اور ان کے ڈرائیور کو قتل کر دیا جائے گا۔ جرمنی کی چانسلر نے اغوا کی مذمت کی تھی اور کہا کہ جرمنی عراقی فوجیوں کی عراق سے باہر تربیت کرتا رہے گا۔ تین دوسرے مغربی باشندوں کی رہائی کے بارے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ | اسی بارے میں محمودیہ: دھماکے میں 30 افراد ہلاک24 November, 2005 | آس پاس امریکی فوجیوں سمیت 53 ہلاک 19 November, 2005 | آس پاس جنازے پر حملہ، اڑتالیس ہلاک19 November, 2005 | آس پاس امریکی یرغمالی کو زندہ بچا لیا گیا07 September, 2005 | آس پاس عراق میں امریکی صحافی قتل03 August, 2005 | آس پاس مہدی ملیشیا، رہائی کا دعوی 12 August, 2005 | آس پاس ’مصری سفیر کو ہم نے اغواء کیا ہے‘06 July, 2005 | آس پاس عراق: آسٹریلوی مغوی بازیاب15 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||