قومی تضحیک: سماعت رُک گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے معروف ناول نگار اورہان پاموک پر اپنی قوم کی تضحیک کرنےکا الزام عائد کیے جانے والے ایک مقدمے کی سماعت آج شروع ہوتے ہی روک دی گئی۔ دارالحکومت استنبول کی ایک عدالت میں جج نے کہا کہ یہ سماعت اس وقت شروع نہیں ہوسکتی جب تک وزارت انصاف سے اسے منظوری نہیں مل جاتی۔ ان پر ایک انٹرویو کے بعد مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تیس ہزار کرد لوگوں اور سلطنت عثمانیہ کے دور میں ایک ملین آرمینیائی لوگوں کی ترکی میں نسل کشی کی گئی۔ اورہان پاموک کا کہنا ہے کہ ترکی میں ہر شخص اس کے بارے میں جانتا تو ہے لیکن کوئی اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ ترکی کے قوانین کے تحت ترک جمہوریہ، پارلیمان اور ریاستی اداروں کی تضحیک غیرقانونی ہے۔ الزامات ثابت ہونے پر اورہان پاموک کو تین سال تک کی قید ہوسکتی ہے۔ یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ انہیں ترکی میں اظہارخیال کی آزادی اور جمہوری اصلاحات کے بارے میں تشویش ہے۔ پاموک پر مقدمے کی وجہ سے مغربی ملکوں کی نظریں ترکی میں جمہوری اصلاحات اور اسلام پسند حکومت کی پالیسیوں پر مرکوز ہیں۔ یورپی یونین کی توسیع سے متعلق اس کے کمشنر کا کہنا ہے کہ وہ پاموک کے مقدمے کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھتے ہیں۔ یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے ترکی نے حالیہ برسوں میں کئی اصلاحات کی ہیں جن میں سزائے موت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ اورہان پاموک ایک معروف ناول نگار ہیں لیکن ترکی میں ان کی طرح ساٹھ سے زائد مصنفین اور پبلشرز پر اس طرح کے مقدمے چل رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے لیے قدامت پسند عدلیہ ذمہ دار ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قانون خود اس طرح کے مقدمات کے لیے ذمہ دار ہے اور قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ ان تظیموں کا مطالبہ ہے کہ اورہان پاموک پر یہ مقدمہ ختم ہو اور اس سے متعلق قانون بھی خاتمہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’آرمینیا میں قتل عام نہیں کیا‘09 March, 2005 | آس پاس پورپی یونین: ترکی نے شرائط مان لیں 03 October, 2005 | آس پاس ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس ترکی:’یورپی اتحاد کا دروازہ کھل گیا‘16 December, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||