BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 October, 2005, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پورپی یونین: ترکی نے شرائط مان لیں
آسٹریا کی وزیرِ خارجہ ارسلا پلاسنک اور ان کے ساتھ آسٹریا کے یورپی یونین میں سفارتکار گریگر واشنیگ
آسٹریا کے ستر فیصد عوام ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے خلاف ہیں
ترکی نے یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے رکنیت کی بات چیت کے لیے لگسمبرگ میں یورپی یونین کے حکام کی متعین کردہ شرائط تسلیم کر لی ہیں۔

ترکی کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک رکنیت کی بات چیت کے لیے سر اٹھا کر جا رہا ہے۔

جب کہ برطانوی وزیرِ خارجہ نے جیک سٹرا نے کہا ہے کہ یہ واقعی یورپ اور پوری بین الاقوامی برادری کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔

چند گھنٹے قبل لگسمبرگ میں یورپی یونین کے حکام نے کہا تھا کہ ترکی کو یونین کا رکن بنائے جانے کے لیے مذاکرات پر وزرائے خارجہ میں اتفاق ہو گیا ہے اور ترکی کو بات چیت کے لیے معاہدے کا مسودہ بھیج دیا گیا ہے جہاں اب اس پر غور ہو رہا ہے۔

یہ معاہدہ تقریباً چوبیس گھنٹے کے مسلسل جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پایا۔ برطانیہ ان مذاکرات کی صدارت کر رہا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق آسٹریا نے اپنی وہ تجویز واپس لے لی جس میں کہا گیا تھا کہ ترکی کو یورپی یونین میں’ شراکت دار‘ بنا لیا جائے لیکن اس کو مکمل ممبرشپ نہیں ملنی چاہیے۔

مذاکرات شروع ہونے سے پہلے برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیک سٹرا نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ترکی کو رکنیت دینے کا فیصلہ وقت پر نہ ہو سکے۔

آسٹریا نے ترکی کو یورپی یونین کا مکمل ممبر بنانے کی مخالفت کی ہے جس کی وجہ یورپی یونین اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔

آسٹریا کے چانسلر وولفگینگ شوسیل نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یورپی یونین ترکی کی شمولیت کے بارے میں لوگوں کے تحفظات کا احترام کرے۔

رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق تقریباً ستر فیصد آسٹریائی باشندے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے خلاف ہیں۔

ترکی نے کہا تھا کہ وہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے علاوہ کسی اور تجویز پر بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔

ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان نے کہا کہ وہ پہلے سے طے شدہ معاملات کے علاوہ کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کویہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ایک عالمی طاقت بننا چاہتا ہے یا عیسائی ملکوں کے ایک کلب کے طور پر رہنا چاہتا ہے۔

ترکی میں لاکھوں لوگوں نے یورپی یونین میں ان کے ملک کی شمولیت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششوں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا۔

ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی سب سے زیادہ حمایت برطانیہ کر رہا ہے جس کا موقف ہے کہ ترکی مسلمان دنیا کے ایک روشن مثال بن سکتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی کو یورپی یونین کا ممبر نہ بنایا گیا تو اس سے عیسائیوں او مسلمانوں میں خلیج بڑھ جائے گی۔

جیک سٹرا نے کہا کہ ترکی کو دور دھکیلنے سے دو تہذیوں کے ٹکراؤ کی باتیں کرنے والوں کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے رات گئے تک جاری رہنے والی بے نتیجہ بات چیت کے بعد کہا ’ہم اس وقت ایک مشکل مرحلے پر ہیں‘۔

یورپی یونین میں برطانیہ اور اٹلی ترکی حمایت کر رہے ہیں جبکہ آسٹریا، اور کئی دوسرے ملکوں کو ترکی کی شمولیت پر اعتراضات ہیں۔

یورپی یونین کے کچھ ممالک کا ترکی سے مطالبہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے آخری سالوں میں آرمینیا میں ہونے والے قتل عام پر معافی مانگے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ تاریخ کا غیر جانبدارنہ مطالعہ کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترکوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کا قتل عام نہیں کیا تھا۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ ترک فوجیوں نے دس لاکھ آرمینائی باشندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ آرمینیائی باشندوں کو ایک متعصب جنگ کا سامنا تھا اور اسی جنگ میں بہت سےترک بھی ہلاک ہوئے۔

فرانس ترکی کو یورپی یونین کا ممبر بنانے کے حق میں ہے لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ ترکی کو قبرں کا تنازعہ حل کرنا ہو گا کیونکہ قبرص یورپی یونین کا ممبر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد