ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے لیے یورپی عدالت نے ترکی کی یونیورسٹیوں میں اسلامی طریقے سے سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی پابندی کی تائید کی ہے۔ عدالت نے ایک خاتون کی جانب سے اسلامی طریقۂ حجاب پر اس پابندی کے خلاف کی جانے والی یہ اپیل مسترد کر دی کہ اس پابندی سے اس کا تعلیم حاصل کرنے کا حق متاثر ہوتا ہے اور وہ امتیاز کا نشانہ بنتی ہے۔ لیلیٰ ساہن نے یہ اپیل 1998 میں سکارف لینے کی بنا پر کلاس سے نکالے جانے کے بعد کی تھی۔ وہ استنبول یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔ لیکن عدالت نےاس بارے میں اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ سکارف لینے پر لگائی جانے والی پابندی بجا ہے کیونکہ یہ امن اور کسی ایک مذہب کو ترجیح دینے سے بچنے کیلیے نا گزیر ہے۔ ترکی اگرچہ مسلم اکثریت کا ملک ہے لیکن سرکاری طور پر سیکولر ہے اور اس کی تمام یونیورسٹیوں اور سرکاری عمارتوں میں سکارف لینے پر پابندی ہے۔ استنبول سے بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس اثرات ہونگے اور اس کا ترکی کی ان ایک ہزار سے زائد خواتین پر بھی اثر پڑے گا جنہوں نے اس طرح کی درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں۔ | اسی بارے میں حجاب کے قانون کی کم خلاف ورزی 02 September, 2004 | آس پاس اوڑھنی مقابلۂ حُسن میں رکاوٹ نہیں30 July, 2004 | آس پاس حجاب پر تنازعہ، فٹبال میچ مؤخر27 April, 2004 | آس پاس جرمن ریاست‘حجاب پر پابندی01 April, 2004 | آس پاس حجاب کی نزع: بحث آج سے شروع03 February, 2004 | آس پاس حجاب پر پابندی کی حمایت17 December, 2003 | آس پاس سر ڈھانپنے پر فرانسیسی پابندی 11 December, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||