| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سر ڈھانپنے پر فرانسیسی پابندی
فرانس میں مسلمان خواتین اس سرکاری فیصلے کا انتظار کررہی ہیں جس کے تحت سرکاری مقامات پر ان کے سر ڈھانپنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا تعین ہو سکے گا۔ سابق وزیر برنارڈ سٹاسی کی قیادت میں ایک سرکاری کمیشن نے اس معاملے پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں سر ڈھانپنے پر پابندی کی حمایت کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر فرانسیسی صدر ژاک شیراک یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا پابندی لاگو کی جائے یا نہیں۔ ژاک شیراک پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ خواتین کے سکارف پہننے کے خلاف ہیں۔ سٹاسی نے کمیشن کی حتمی رپورٹ تیار کرنے سے قبل معاشرے کے کئی حلقوں سے آراء طلب کی تھیں جن میں اساتذہ، مذہبی رہنما اور سیاستدان وغیرہ شامل تھے۔ تاہم اس معاملے پر حکام کے مابین تنازعات نے بھی جنم لیا ہے اور کئی اعلیٰ حکومتی اہلکار اس سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات کے خلاف ہیں۔ کئی سکولوں میں مسلمان طالبات کو محض اس لئے معطل کردیا گیا کیونکہ وہ سکارف سے سر ڈھکتی تھیں۔ اس فیصلے کے حامی فرانسیسی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کسی بھی طرح کی مذہبی علامات کو ختم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سر ڈھانپنے کی مسلمانوں کی روایت فرانس کی سیکولر روایات کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل فرانس کے وزیر انصاف نے ایک مقامی جیوری کی مسلمان خاتون رکن کو حجاب پہن کر عدالت میں آنے سے منع کر دیا تھا۔ وزیر انصاف ڈامِنیک پربن نے کہا تھا کہ سکارف پہننا غیر جانب داری کے اصول کے خلاف ہے۔ سیکولرِزم کی پالیسی پر عمل کرنے والی فرانسیسی حکومت اس معاملے پر تضادات کا شکار ہے کہ آیا عوامی اداروں میں سکارف پہننے پر پابندی ہو یا نہیں۔ فرانس میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً پچاس لاکھ ہے۔ یورپی یونین کے کسی اور ملک میں مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی نہیں ہے۔ حالیہ چند برسوں کے دوران فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں مسلمان خواتین کے سر ڈھانپنے پر پابندی عائد کر نے کے مطالبات زور پکڑتے جارہے ہیں۔ سنگاپور میں ایک سکول کی چار مسلمان طالبات کو اس لئے معطل کردیا گیا تھا کہ وہ سکارف پہنتی تھیں۔ یہاں نہ صرف مسلمان طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی عائد کی گئی بلکہ وہ خاتون وکیل جو اس مقدمہ میں طالبات کا دفاع کررہی تھیں، ان پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ روس میں خواتین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ پاسپورٹ کی تصاویر کے لئے اپنے سکارف اتار دیں۔ ترکی کا قانون بھی اجازت نہیں دیتا کہ خواتین سرکاری عمارتوں یا تقاریب میں سر پر سکارف پہنیں۔ کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ یہ اقدام بڑھتی ہوئی مسلمان آبادی کے بارے میں فرانسیسی خدشات کا عکاس ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||