BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 September, 2004, 09:21 GMT 14:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حجاب کے قانون کی کم خلاف ورزی
دونوں صحافیوں کو جان کا خطرہ ہے
دونوں صحافیوں کو جان کا خطرہ ہے
فرانس میں حجاب پہننے کا قانون جمعرات سے لاگو ہونے کے بعد اگرچہ اس کے حق اور مخالفت میں دلائل سامنے آ رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسی اطلاع نہیں ملی کہ بہت زیادہ تعداد میں لڑکیوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔

اب تک ستر ایسے واقعات کا پتہ چلا ہے جن میں لڑکیوں نے حجاب کے قانون کو ماننے سے انکار کیا لیکن یہ تعداد حکام کی توقعات سے بہت کم ہے۔

عراق میں دو فرانسیسیوں کو موت کی دھمکیان ملنے کے بعد فرانس میں مسلمانوں نے بھی یرغمالیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کے ٹیلی وژن پر جمعرات کی شام یہ خبر بھی نشر کی گئی کہ مسلمانوں کے رویے سے یرغمال بنائے جانے والوں کو فائدہ پہنچے گا۔

فرانس کا وہ قانون جس کے تحت حجاب اور دیگر مذہبی علامتوں پر سکولوں میں پابندی عائد کردی گئی ہے، جمعرات سے لاگو ہوگیا۔ جمعرات کو سکولوں میں تعلیمی سیشن کے آغاز کا پہلا دن تھا۔

اس قانون کی وجہ سے بارہ ملین سکول جانے والے بچے متاثر ہونگے اور نامہ نگاروں کے مطابق کچھ طالب علم سیاسی وجوہات سے اس قانون کی جان بوجھ کر خلاف ورزی بھی کرسکتے ہیں۔

اس قانون کی وجہ سے دنیا کی نظر عراق میں یرغمال بنائے جانیوالے دو فرانسیسی صحافیوں پر ہوگی جن کے اغواکاروں نے ان کی رہائی کے لیے اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانس کی حکومت نے اغواکاروں کے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور اغواکاروں نے دونوں صحافیوں کے قتل کی دھمکی دی ہے۔ تاہم فرانسیسی قائدان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نئے فرانسیسی قانون کے تحت مسلم لڑکیاں سکولوں میں حجاب نہیں پہن سکیں گی، یہودی بچے مذہبی ٹوپی یعنی کِپا نہیں پہن سکیں گے، اور نہ ہی سکھ مذہب کے ماننے والے طالب علم پگڑی۔

عرب لیگ نے کہا ہے کہ عراق میں ان کے رابطہ کاروں کو یقین ہے کہ اغواکاروں نے قانون کے خاتمے کے لیے اپنی ڈیڈلائن بڑھا دی ہے جو آغاز میں پیر تھی۔ تین فرانسیسی مسلم رہنما بغداد پہنچے ہیں جو یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرینگے۔

منگل کے روز عراق میں سنی مسلمانوں کی تنظیم ’کمیٹی آف علماء‘ نے کہا تھا کہ وہ اغواکاروں سے رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عراق میں الجیش اسلامی نامی ایک تنظیم نے دونوں فرانسیسی صحافیوں جارج میلبرنو اور کریسچین چیزناو کا اغوا کیا ہے۔

فرانس میں کام کرنے والی ’فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ‘ کے نمائندے دلیل ابوبکر نے کہا ہے کہ فرانسیسی صحافیوں کا اغوا بلیک میل کرنے کی مکروہ سازش ہے اور فرانس میں بسنے والے مسلمان اس کی حمایت نہیں کرتے۔

دلیل ابوبکر نے کہا کہ وہ صحافیوں کے اغوا پر مایوس ہوئے ہیں لیکن وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ فرانسیسی مسلمان اس کارروائی کی حمایت نہیں کرتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد