’حجاب جبر کی علامت نہیں ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودہ ملکوں کے دو سو سے زیادہ مندوب کل لندن کی ایک کانفرنس میں شریک ہوئے جو اس بات کو تسلیم کرانے کے لیے منعقد کی گئی تھی کہ حجاب پہننامسلم خواتین کا حق ہے۔ فرانس اور جرمنی نے حجاب پر پابندیاں لگا دی ہیں اور یہ کانفرنس اس لیے بلائی گئی ہے کہ اور ممالک خواتین کی اس آزادی کو سلب نہ کریں۔ کانفرنس میں تقریر کرنے والوں میں سے کئی ایک نے کہا کہ فرانس اور جرمنی نے پابندیاں لگا کر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حجاب کسی جبر کی علامت نہیں ہے بلکہ آزادی اور عزت نفس کے اظہار کی علامت ہے۔ عالم دین یوسف القرضوی نے، جن کی برطانیہ میں آمد کو متنازعہ بنا دیا گیا تھا، کہا کہ فرانس کی حکومت کو چاہئیے کہ اپنا فیصلہ منسوخ کرے کیونکہ یہ ’یہودی باڑے‘ والی ذہنیت کی عکاس ہے۔ اسی طرح کے احتجاج جرمنی کے کئی صوبوں اور بیلجئیم کے بارے میں بھی کیے گئے۔ ایک خاتون مقرر نے کہا کہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ حجاب پہننے اور نہ پہننے میں کتنا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے سولہ سال کی عمر سے حجاب پہننا شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے میں ایک عام سی لڑکی تھی ۔ گھر سے باہر نکلتی تو لوگ جیسے دوسری لڑکیوں سے برتاؤ کرتے ویسے میرے ساتھ بھی۔ لیکن جب میں نے حجاب پہننا شروع کیا تو یکایک محسوس ہوا جیسے میرا درجہ بلند ہو گیا ہو۔ بہت لوگ میری عزت کرنے لگے۔ خاص طور سے اگر کوئی مسلمان مجھے بازار میں دیکھتا تو احترام کی نگاہیں ڈالتا‘۔ برطانیہ میں آجکل نسلی تفریق کے خلاف رائج قوانین کے تحت مسلمان لڑکیوں کا یہ حق محفوظ ہے کہ وہ چاہیں تو حجاب پہن سکتی ہیں۔ لیکن اصل میں بحث کا موضوع یہ بات ہے کہ مسلمان مغربی معاشروں میں کس طرح گھل مل سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کا اہتمام کرنے والو ں کا کہنا ہے کہ اس میں نہ صرف خواتین کے اس حق کو اجاگر کیا گیا بلکہ یہ دکھایا گیا کہ خواتین کیوں اس بات پر مصر ہیں کہ ان کو یہ حق استعمال کرنے کی آزادی ہونی چاہئیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||