BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 December, 2003, 19:21 GMT 00:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا فرانس حجاب چھین سکے گا؟
حجاب
وہ دو فرانسیسی لڑکیاں اپنے والد کے ساتھ جنہیں حجاب لینے کی باعث اسکول سے نکال دیا گیا

فرانسیسی صدر ژاک شیراک کو تعلیمی اداروں میں ایسے لباسوں کے استعمال پر پابندی لگانے کے مسئلے پر وسیع تر حمایت حاصل ہے جنہیں پہننے سے مذہبی شناخت ہوتی ہو، اگرچہ اس سلسلے میں دوسرے مذاہب کا بھی ذکر ہوتا ہے مثلاً یہودیوں کی مخصوص ٹوپی اور عیسائیوں کی صلیب کا، لیکن سبھی جانتے ہیں کہ اصل معاملہ مسلمان لڑکیوں کے حجاب اوڑھنے کا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین وائٹ بتاتی ہیں کہ گزشتہ جون کی ایک خوشگوار شام میں جب وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ مختلف موضوعات پر باتیں کرتی ہوئی آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی تو اس کے دوست کے منہ سے اچانک نکلا ’یہ کیا بکواس ہے۔‘

’میں چونک گئی اور میں نے ایک بار پھر آتے جاتے لوگوں پر نظر ڈالی۔ میں اس علاقے میں قیام پذیر تھی جہاں باہر سے آئے ہوئے سیاحوں اور ہم جنسوں کی اکثریت شام ہوتے ہی سمٹ آتی ہے تا کہ اپنی شام اور پھر رات کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنا سکیں۔‘

سب سمجھتے ہیں؟

 پابندی کے سلسلے میں دوسرے مذاہب کا بھی ذکر ہوتا ہے مثلاً یہودیوں کی مخصوص ٹوپی اور عیسائیوں کی صلیب کا، لیکن سبھی جانتے ہیں کہ اصل معاملہ مسلمان لڑکیوں کے حجاب اوڑھنے کا ہے

’میرے سامنے سے تنگ ٹی شرٹوں اور پتلونوں میں ملبوس دو نوجوان اپنے اعضاء کی نمائش کرتے ہوئے گزر رہے تھے وہ دو چار قدم چل کر رکتے اور پُر جذبات انداز میں ہم بوسہ ہوتے اور پھ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے چل پڑتے۔‘

’کیا یہ دو نوجوان؟‘ میں نے ان کی طرف اشارہ کیے بغیر اپنے ادھیڑ عمر ساتھی سے پوچھا، جو ایک اعتدال پسند خیالات رکھنے والا فرانسیسی تاجر ہے۔ میرے لہجے میں حیرت تھی کیونکہ اب فرانس میں اور خاص طور پر اس علاقے میں جہاں ہم بیٹھے تھے اس طرح کی باتوں پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔

’نہیں، نہیں، وہ نہیں، وہ ، ان کے پیچھے، وہ دو لڑکیاں۔‘ اس نے بھی ان کی طرف اشارہ کیے بغیر کہا۔

میں نے بھی ان کی طرف دیکھا لیکن میں کوئی غیر معمولی بات محسوس نہیں کر سکی، سوائے اس کے کہ دو لڑکیاں ہیں جو ایک دوسرے سے گفتگو میں منہمک گزر رہی ہیں۔

’وہ دو لڑکیاں، جنہوں نے سر ڈھانپے ہوئے ہیں؟‘ میرے سوال سے بے یقینی صاف عیاں تھی۔

’ہاں، وہ حجاب والیاں۔‘ انتونیو نے اس طرح کہا جیسے اس کے منہ میں اچانک کوئی بدمزہ چیز آ گئی ہو’ فرانس میں اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘

میرے لیے انتونیو کی یہ بات حیران کن تھی۔

اس کے بعد انتونیو نے آدھے گھنٹے تک مسلسل مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کے دوست فرانس میں سر اوڑھنے کے بڑھتے ہوئے رحجان یا حجاب لینے والیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خوفزدہ ہیں۔

انتونیو کا موقف تھا ’عورتوں کے لیے توہین آمیز ہے ہر چند کہ کچھ عورتیں انہیں اپنی مرضی سے بھی پہنتی ہیں۔ لیکن اکثر کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے، ان کے گھر والے اور ان کے علاقے کے امام یہ حجاب ان پر مسلط کر دیتے ہیں اور اس طرح فرانسیسی مسلمان برادری میں شدت پسندی کو رحجان دیا جا رہا ہے۔‘

حجاب
ایک تُرک لڑکی حجاب لیے ہوئے

میں سن رہی تھی اور انتونیو کی خود کلامی جاری تھی’یہ فرانس آنے والے پہلی نسل کے ان مسلمانوں کا مسئلہ نہیں تھا جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں الجزائراور مراکش سےآئے اور جو فرانسیسی معاشرے کا حصہ بننا چاہتے تھے۔

’یہ دوسری اور اس تیسری نسل کا مسئلہ ہے جو یہیں پیدا ہوئی ہے اور اب بڑے شہروں کے اندر تنگ و تاریک بڑی عمارتوں یا نواحی علاقوں میں رہتی ہے اور جن میں بقول انتونیو، غیر فرانسیسی پن بڑھ رہا ہے‘

اس کا کہنا تھا کہ وہ فرانسیسی اقدار اور ثقافت کو مسترد کر رہے ہیں اور اپنی شناخت کے لیے مذہبی اقدار اور دوسرے ملکوں کا ہونے کو، یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں حجاب جیسی چیزوں کے استعمال کو بنا رہے ہیں۔

’اس حجاب کے ذریعے ان مسلمان لڑکیوں کی شخصیتوں کو کچلا جا رہا ہے اور یہ انتہائی خطرناک رحجان ہے، اس سے کسی کا کوئی بھلا نہیں ہو گا‘ انتونیو کی آخری دلائل تھے۔

اپنی شناخت کے لیے

 وہ فرانسیسی اقدار اور ثقافت کو مسترد کر رہے ہیں اور اپنی شناخت کے لیے مذہبی اقدار اور دوسرے ملکوں کا ہونے کو، اور یہاں تک کہ حجاب جیسی چیزوں کو استعمال کر رہے ہیں

کم و بیش یہی دلائل فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے بھی فرانسیسی ایوان صدر میں مذہبی شناختوں کو اجاگر کرنے والے لباسوں اور نشانیوں پر پابندی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے استعمال کیے ان کے الفاظ اگرچہ اس طرح دو ٹوک نہیں تھے۔

انہوں نے برابری، آزادی، تنوع، فرانس کے غیر مذہبی ریاست ہونے کی بات کی تاہم ان کا مطلب بھی ایسے تمام پہناووں پر اسکولوں میں پابندی تھا جن سے طالب علموں اور طالبات کے مذاہب کی سناخت ہوتی ہو۔

لیکن ان تمام الفاظ کے باوجود سبھی کو علم تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور اس پابندی سے ان کا مطلب ہرگز گلے میں زنجیر سے لٹکی ہوئی چھوٹی سی صلیب یا سر کے چھوٹے سے حصے کو ڈھانپنے والی ننھی سی وہ ٹوپی جو یہودی استعمال کرتے ہیں۔

تو یہ کیا ہے؟ کیا نسل پرستی یا یہ کسی ایسی بات کا خوف جو فرانس کے کثیرالثقافتی معاشرے میں بتدریج اپنی جگہ بنا رہی ہے؟

میرا دماغ کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا کیونکہ میں نے اس سلسلے میں جتنی بھی مسلمان لڑکیوں سے بات کی وہ اس بارے میں انتہائی مختلف خیالات رکھتی ہیں۔

ان میں تیس سالہ سمیرا بلالی بھی ہے جو الجیریا میں پیدا ہونے والی ایک فرانسیسی ہے اور حجاب کی اتنی ہی مخالف ہے جتنا کہ انتونیو۔

وہ مسلمان عورتوں کی اس تحریک میں بھی شامل ہے جو اسکولوں میں حجاب لینے پر پابندی کی تحریک چلا رہی ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ لڑکیوں پر حجاب کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ان کے گھر والے اور ان کے علاقوں کے مذہبی لوگ انہیں بتاتے ہیں کہ اگر انہیں خود اپنی ہی عمارتوں میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات سے بچنا ہے تو حجاب اوڑھیں۔

تشدد سے بچنا ہے تو

 ان کے گھر والے اور ان کے علاقوں کے مذہبی لوگ انہیں بتاتے ہیں کہ اگر انہیں تشدد کے واقعات سے بچنا ہے تو حجاب اوڑھیں

سمیرا بلالی۔ الجیریا

بیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے سمیرا پر پیرس کے نواح میں دوبار جنسی زیادتی ہو چکی ہے اور اس پر یہ جنسی حملے کرنے والے کوئی اور نہیں مسلمان ہی تھے۔

ان واقعات کے بعد اس کے ساتھ پڑھنے والی ایک لڑکی نے اسے بتایا کہ اگر اس نے اپنے بال کھلے چھوڑنے کی بجائے حجاب لیا ہوتا تو شاید اسے نشانہ نہ بنایا جاتا۔

سمیرا کا کہنا ہے کہ وہ اس رحجان کے خلاف مہم چلا رہی ہے کہ مرد عورتوں کو بتائیں کہ انہیں کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں ۔ اس کے مطابق حجاب اسی رحجان کا نتیجہ ہے۔

حجاب
جرمنی میں حجاب لینے پر کوئی پابندی نہیں

وہ صدر ژاک شیراک کی تقریر سے خوش تھی جب کہ میری ایک ایرانی دوست شیراک کی تقریر پر ہنس رہی تھی۔

میری اس ایرانی دوست کا کہنا تھا کہ ’ایران میں مردوں کو یہ جنون ہے کہ وہ عورتوں کو یہ بتائیں کہ وہ کیا کیا پہنیں اور فرانس میں ان کا جنون یہ ہے کہ عورتیں کیا نہ پہنیں۔‘

اس کے بعد میری سترہ سالہ تشیر بن نصر سے ملاقات ہوئی۔ وہ اسکول کی طالبہ ہے اور حجاب کے حق میں انتہائی سرگرم ہے۔

اس کا کہنا ہے ’آزادی کی اس سر زمین پر کیسے فرانس میرا یہ حق چھین سکتا ہے کہ میں جو عقائد رکھتی ہوں ان کا اظہار نہ کروں؟ اس کا فیصلہ تو میں کروں گی کہ اپنے بال ڈھانپوں یا نہ ڈھانپوں؟‘

اس بحث نے مجھے الجھا کر رکھ دیا ہے۔ میں کوئی فیصلہ نہیں کر پاتی اور سوچتی ہوں کہ یہ فیصلہ فرانس ہی کو کرنا ہے کہ بطور ایک قوم اس کے مستقبل کے لیے کیا بہتر ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ’فرانس چاہے اسے پسند کرے یا نہ کرے، وہ ابھی کثیرالثقافتی ملک بنا ہو یا نہ بنا ہو اب وہ ایک کثیر المذاہب ملک بن چکا ہے اور حجاب کی بحث کچھ اور بتاتی ہو یا نہ بتاتی ہو یہ ضرور منکشف کرتی ہے کہ بطور ایک ملک فرانس تارکین وطن کی ایک بڑی برادری کو اپنی ثقافتی اور تہزیبی روایت میں جذب اور ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اور اس بات کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد اچانک آنکھیں وہ سب کیوں دیکھنے لگیں ہیں جو انہیں پہلے دکھائی نہیں دیتا تھا۔

ایرانی و فرانسیسی مردوں کاجنون

 ’ایرانی مردوں کو یہ جنون ہے کہ وہ عورتوں کو یہ بتائیں کہ وہ کیا کیا پہنیں جب کہ فرانسیسی مردوں کا جنون یہ ہے کہ عورتیں کیا کیا نہ پہنیں

پچھلے چالیس سال سے فرانس ان تارکینِ وطن اور ان کے خاندانوں کو ان تنگ و تاریک اور بلند و بالا عمارتوں میں دھکیلتا اور فراموش کرتا رہا جہاں وہ افلاس، بے روزگاری، مایوسی اور اپنی تنہائی میں ابلتے رہے۔ اب ان لوگوں کی ایک نئی نسل ہے، ایک پوری نئی نسل، جو اس ابال ہی میں پیدا ہوئی ہے، فرانسیسی ہے اور فرانس کو اسی طرح مسترد کر رہی ہے جیسے فرانس نے اس کے آباء کو مسترد کیا تھا۔

شاید سیاست دانوں نے یہ سوال اٹھانے میں بہت دیر کر دی ہے کہ غلطی کب اور کہاں ہوئی؟ اس پوری نسل کو اب فرانس وہ برابری عملاً کیسے دے سکتا ہے جسے الفاظ میں بڑی آسانی، روانی اور تواتر سے دہرایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد