| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حجاب پر پابندی، کابینہ کی منظوری
فرانس کی کابینہ نے اس قانون کو منظور کر لیا ہے جس کے تحت سرکاری سکولوں میں حجاب سمیت دیگر مذہبی علامات نمائش پر پابندی ہوگی۔ کابینہ کا یہ فیصلہ تجویز شدہ قانون پر منگل کو پارلیمان میں ہونے والی بحث سے چند روز پہلے کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت سرکاری سکولوں میں حجاب کے علاوہ بڑی صلیبیں اور مذہبی علامات پر پابندی ہوگی۔ امکان ہے کہ سکھوں کے سکولوں میں پگڑی پہننے پر بھی یہ پابندی عائد ہو جائے گی۔ قومی اسمبلی نے مذکورہ مسودۂ قانون کی پہلی خواندگی منگل کے روز مکمل کی۔ مجوزہ قانون کے خلاف فرانس اور دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ فرانس میں پچاس لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ ان کی اکثریت اس قانون کو اپنے انسانی اور مذہبی حقوق پر حملہ سمجھتی ہے۔ تاہم ملک کی ستّر فی صد آبادی صدر ژاک شیراک کی اس رائے کی حامی ہے کہ سرکاری سکولوں میں مذہبی علامات پہننے یا لگانے پر پابندی ہونی چاہئے۔ تاہم فرانس میں سوشیالسٹ حزب اختلاف نے اس تجویز کو مبہم اور گمراہ کن قرار دیا تھا۔ ایک سابق وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ وہ اس قانون کی مخالفت کریں گے کیونکہ اس سے شدت پسند مسلمانوں کو مغرب کی مخالفت کا ایک سنہرہ موقعہ ہاتھ آجائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||