اوڑھنی مقابلۂ حُسن میں رکاوٹ نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں ایک لڑکی مقامی مسلمانوں کی سرڈھانپنے کی روایت کو پورا کرتے ہوئے مقابلۂ حسن میں حصہ لے رہی ہے۔ اٹھارہ سالہ اندینہ نے انڈونیشیا کے سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ یہ ثابت کر دے گی کہ اوڑھنی، دوپلاہ یا ہیڈ اسکارف مقابلۂ حسن جیتنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ انڈونیشیا کے اس مقابلۂ حسن میں اندینہ کے علاوہ مزید انتیس لڑکیاں حصہ لے رہی ہیں اور سب سے بڑی مسلمان آبادی والے اس ملک کی عورتوں کی طرح وہ بھی سر ڈھانپنے پر یقین نہیں رکھتیں۔ ادینہ کا تعلق انڈونیشیا کے صوبہ اکیہ سے ہے جہاں کی آبادی بالعموم روایتی اسلام کی پیرو کار ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقابلے کے منصفین کا کہنا ہے کہ وہ اندینہ کے بارے میں فیصلے کے لیے مقابلتاً مختلف معیاراختیار کریں گے اور اس میں ایک تو یہی ہے کہ وہ اس بالوں کو دیکھنے کی بجائے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ وہ اسکارف باندھنے کا کیا انداز اختیار کرتی ہے۔ مس انڈونیشیا فاؤنڈیشن کی سربراہ پتری کسوسنووردھنی کا کہنا ہے کہ آئندہ مس انڈونیشیا اسے بنایا جائے گا جو ذہنئ حسن اور روّیے میں بھی سب سے اچھی ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||