حجاب پر تنازعہ، فٹبال میچ مؤخر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں خواتین کا ایک فٹبال میچ اس وقت روکنا پڑا جب ایک مسلمان خاتون کھلاڑی کو تنبیہ کی گئی کہ میچ میں کھیلنے کے لیے اسے اپنا سر کا سکارف یا حجاب اتارنا ہوگا۔ عفیفہ سعد خواتین کے ساکر کلب جنوبی میلبورن کے لیے چوتھے سیزن میں کھیل رہی ہیں۔ وہ ہمیشہ ایک سفید سکارف سے سر ڈھانپ کر اور لمبا ٹراؤزر پہن کر میچ میں شریک ہوتی ہیں۔ لیکن اتوار کے میچ میں پہلی مرتبہ کسی ریفری نے انہیں سکارف اتارنے کا کہا۔ انہوں نے ریفری کے اس مطالبے کو رد کردیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی اپنی ٹیم اور مخالف ٹیم دونوں ہی نے ان کی حمایت کی۔ ٹیم کی کوچ ایلیکس ایلیکسوپولس نے کہا ’جب یہ واقعہ ہوا تو وہ رو رہی تھیں۔ ان کی ساتھی کھلاڑی ان کے گرد جمع ہوگئیں جوکہ ایک زبردست بات تھی‘۔ وکٹوریہ ساکر فیڈریشن سے صلح مشورے کے بعد بالآخر کوچ نے انہیں سکارف کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے دی تاہم کھیل میں آنے والی تاخیر کے باعث اسے مؤخر کرنا پڑا۔ آسٹریلیا میں مساوی حقوق کے کمیشن کی سربراہ ڈائیان سسلی کا کہنا ہے عفیفہ ریفری کے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیاز کی شکایت درج کروا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’میں ریفری سے پوچھنا چاہوں گی کہ حجاب کس طرح کسی کے ساکر کھیلنے کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے‘۔ تاہم وکٹوریہ ساکر فیڈریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ریفری نے مذہبی بنیادوں پر امتیاز نہیں کیا ہے لیکن عفیفہ سے بحرحال انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ اب عفیفہ سعد اتوار کو اگلے میچ میں حجاب کے ساتھ کھیلیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||