حجاب پر پابندی: بل منظور ہوگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے ایوانِ زیریں نے منگل کو حجاب لینے پر پابندی کے قانون کی بھاری اکثریت سے منظوری دیدی۔ پابندی کے حق میں چار سو چورانوے اور مخالفت میں صرف چھتیس ووٹ آئے۔ پابندیوں کا یہ بل اب مارچ کے اوائل میں ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں جائے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہاں بھی اسے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا جائے گا۔ اس پابندی کا اطلاق ستمبر دو ہزار چار سے شروع ہو گا۔ قانون کے تحت مسلمان لڑکیاں سکولوں میں دوران تعلیم سکارف نہیں لیں گی۔ اس کے علاوہ یہودی طلبا پر بھی پابندی ہو گی کہ وہ اپنی مخصوص ٹوپی نہ پہنیں جب کہ عیسائی طلبہ اور طالبات کے صلیب پہننے اور سکھ طلباء کے پگڑی پہننے پر بھی پابندی ہو گی۔ فرانس میں اس متنازع قانون کو ایک سروے کے مطابق ستر فی صد لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس قانون کی حمایت سے صدر ژاک شیراک وہ حمایت کھو چکے ہیں جو انہیں مسلمان دنیا سے عراق پر امریکی جنگ کی مخالفت کے باعث حاصل ہوئی تھی۔ تاہم اسلامی بنیاد پرستی میں مبینہ اضافے کے خطرے کے پیشِ نظر کچھ جماعتیں جو صدر شیراک کی حمایت کرتی ہیں، اس مسودۂ قانون کو منظور کرنے کے لئے بڑی پُر عظم تھیں۔ فرانسسی کابینہ پہلے ہی اس قانون کو منظوری دے چکی ہے۔ تاہم فرانس میں سوشلسٹ حزب اختلاف اس قانون کو مبہم اور گمراہ کن قرار دیتی رہی ہے اور ایک سابق وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ وہ اس قانون کی مخالفت کریں گے کیونکہ اس سے شدت پسند مسلمانوں کو مغرب کی مخالفت کا ایک سنہرہ موقعہ ہاتھ آجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||