امریکہ میں سر ڈھانپنے پر تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کےمحکمۂ انصاف نے ریاست اوکلاہوما کی ایک گیارہ سالہ مسلمان بچی کے سر ڈھانپنے پر پابندی کے خلاف شکایت درج کی ہے۔ نتاشا کو شکایت ہے کہ اسے اس کے سکول کے حکام نے اپنا سر سکارف یا حجاب سے ڈھانپنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ گزشتہ برس اسے دو مرتبہ اوکلاہوما کے مشرقی شہر مسکوجی کے ایک سکول سے محض اس وجہ سے معطل کردیا گیا کہ وہ سکارف سے اپنا سر ڈھانپتی تھی اور حکام کا کہنا تھا کہ سکارف پہننے سے سکول کے یونیفارم کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ تاہم امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ مسکوجی پبلک سکول ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کرسکتا جس سے کسی کے وہ ذاتی حقوق یا آزادی سلب ہوتی ہو جن کی اجازت امریکی آئین دیتا ہے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل الیگزینڈر ایکوسٹا نہ کہا ہے کہ سکولوں میں مذہبی تفریق کی اجازت نہیں ہے۔ یہ مقدمہ اس سال ستمبر میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ حال ہی میں فرانس میں خواتین کے سر ڈھانپنے پر پابندی عائد کی گئی ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||