| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
احتجاجی مظاہروں پر فرانس کی تنقید
فرانس کے سکولوں میں سر ڈھانپنے پر پابندی کے لئے بنائے گئے قانون کے خلاف فرانس سمیت کئی ملکوں میں سنیچر کے روز احتجاج کیا گیا۔ پیرس اور لندن میں ہزاروں مسلمانوں نے ان مظاہروں میں حصہ لیا۔ فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے ان احتجاجی مظاہروں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مظاہروں سے کشیدگی، اشتعال اور غلط فہمیوں میں اضافہ ہوگا۔ پیرس میں ان مظاہروں میں قریباً پانچ ہزار مسلمان شامل تھے۔ تاہم ان میں کئی مسلمان تنظیمیں شامل نہیں تھیں۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جن کا خیال ہے کہ مظاہروں کے بجائے فرانس کی حکومت سے مذاکرات کی کوشش زیادہ کارگر ثابت ہوگی۔ پیرس کے علاوہ بھی فرانس کے دیگر شہروں میں سر ڈھانپنے کے حق میں احتجاج کئے گئے۔ جبکہ یورپی ممالک، مشرق وسطٰی اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے سکولوں میں کسی بھی ایسی علامت کو ممنوع قرار دیا ہے جس سے کسی مذہب کا اظہار ہو۔ ملک کے تقریباً پچاس لاکھ مسلمانوں کی اکثریت اس پابندی کو اپنے مذہبی اور انسانی حقوق پر حملہ قرار دیتی ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی تنظیم کے صدر دلیل ابوبکر کا کہنا ہے کہ احتجاج پُر امن رہے گا۔ اس قانون کے تحت مسلمان خواتین کے سر ڈھانپنے یا حجاب لینے، یہودیوں کے مخصوص ٹوپی اڑھنے، عسائیوں کے صلیب کا نشان لگانے اور سکھوں کی پگڑی پر پابندی لگائی گئی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس قانون سے ملک کی سکیولر حیثیت قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||