حجاب کی نزع: بحث آج سے شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کی پارلیمان میں مسلم اور دیگر مذاہب کی مختلف علامتوں پر سرکاری سکولوں میں پابندی لگانے کے متنازعہ مسئلے پر منگل کو بحث کا آغاز ہو رہا ہے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک کا کہنا ہے کہ ریاست اور مذہب کی علیحدگی کو قائم رکھنے کے لئے نیا قانون ضروری ہے۔ فرانسیسیوں کی اکثریت کلاسوں میں حجاب پہننے اور دیگر مذاہب کی علامات پر پابندی کے حق میں ہے تاہم اس مسودۂ قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے مسودے میں جو الفاظ استعمال کیئے گئے ہیں وہ غیر واضح اور نامناسب ہیں۔ حجاب پہننے کے معاملے پر فرانس میں بسنے والے تقریباً پچاس لاکھ مسلمان تقسیم ہوگئے ہیں کیونکہ ان میں سے کچھ احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ کچھ دوسرے اس پابندی کے حق میں ہیں۔ قانون کی منظوری سے نہ صرف مسلمان لڑکیوں کا سر ڈھانپنا ممنوع ہو جائےگا بلکہ یہودی اپنے سروں پر مخصوص مذہبی ٹوپی، سکھ اپنی پگڑی اور مسیحی صلیب کی علامت بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس قانون کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ان لوگوں کو داڑھی بڑھانے سے بھی روک دیا جائے جو اسے ایک مذہبی شعار کے طور پر رکھتے ہیں۔ اس مسودۂ قانون پر تین روز تک بحث ہوگی اور توقع ہے کہ اس پر اگلے ہفتے ووٹنگ ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||