BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس کی مدد کریں گے: ایران
خالد مشعل اور علی لاریجانی
ایران کی جانب سے مدد کا اعلان حماس کی اپیل پر کیا گیا ہے
ایران نے حماس کی قیادت والی فلسطینی انتظامیہ کو امداد فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

ایرانی ریڈیو کے مطابق یہ پیش کش اعلی سرکاری اہل کار علی لاریجانی نے حماس کے پولٹ بیورو کے سربراہ خالد مشعل سے ایک ملاقات کےبعد کی۔

حالیہ پارلیمانی انتخابات میں حماس کی غیر متوقع کامیابی کے بعد امریکہ نے فلسطینی انتظامیہ کی امداد بند کر دی ہے کیونکہ وہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم مانتا ہے اور اس وجہ سے فلسطینی انتظامیہ مالی بحران سے دو چار ہو گئی ہے۔
اسرائیل نے بھی وہ محصولات فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے جو وہ اس کی جانب سے اکٹھا کرتا ہے۔

حماس کی جانب سے حکومت سازی کی کوششیں جاری ہیں اور اس نے فتح کے ساتھ مل کر ایک مخلوط حکومت بنانے کے لیے ابتدائی بات چیت بھی کی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے منگل کے روز باضابطہ طور پر حماس کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔ حماس نے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اسمعیل ہنیہ کو نامزد کیا ہے۔
پہلے تو فتح نے حکومت میں شرکت سے انکار کر دیا تھا لیکن اب اس نے ایک ممکنہ مخلوط حکومت کے لیے مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے کی کوشش پر اتفاق کر لیا ہے۔
فتح کی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ اعظم الاحمد کا کہناہے کہ اصولی طور پر تو اتفاق ہوا ہے اور اس پر عمل درآمد کا ارادہ بھی ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مذاکرات کے بعد کیا بات سامنے آتی ہے۔
مسٹر احمد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حماس کے ساتھ حکومت اسی صورت میں بنائی جاسکتی جب وہ اسرائیل کے ساتھ قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں صدر محمود عباس کا ساتھ دے۔
یورپی یونین نے فلسطینی انتظامیہ کو اپنی امداد فی الحال جاری رکھنے کا فیصلے کیا ہے لیکن امریکہ کی طرح اس کا بھی مطالبہ ہے کہ حماس مسلح جدو جہد سے دست بردار ہو جائے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے۔
حماس اگرچہ اپنے طور پر ایک غیر رسمی جنگ بندی پر عمل کررہی ہے لیکن اس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور مذاکرت سے انکار کر دیا ہے۔

ایران کی جانب سے امداد کی پیش کش اس پس منظر میں کی گئی ہے۔
مسٹر لاریجانی نے کہا کہ خالد مشعل نے فلسطینی انتظامیہ کو در پیش مسائل سے نمٹنے کے لیے ایران سے امداد کی درخواست کی ہے اور ایران ضرور فلسطینی انتظامیہ کو مالی امداد فراہم کرے گا۔
مسٹر لاریجانی نے امداد بند کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت بھی کی اور کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جمہوریت کی کتنی پاسداری کرتا ہے۔
" ہم جانتے ہیں کہ حماس ایک مقبول عوامی تحریک ہے جس نے مظلوم فلسطینی عوام کوان کے حقوق دلانے کے لئے جدوجہد کی ہے۔ افسوس کہ امریکہ نے اس جانب کبھی توجہ نہیں دی۔
پیر کے روز ایران کے روحانی پیشوی آیت اللہ علی خامنہ ای نے حماس کی حمایت کرتےہوئے مسلم ممالک سے اسے مالی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد