حماس کو ایک اور امریکی وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایک نئی قرار داد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ہر قسم کی امریکی امداد ی بندکر دی جائے تاوقتیکہ حماس اسرائیل کی تباہ کے مطالبہ سے دستبردار نہیں ہوتا۔ فلسطینی تنظیم حماس گزشتہ ماہ ہونے والے فلسطینی انتخابات میں فاتح قرار پائی ہے اور امید ہے کہ وہ مارچ کے پہلے ہفتے میں نئی فلسطینی حکومت بنائے گی۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریتی جماعت، ریپبلکن پارٹی، کے رہنما جان بوہنر کے مطابق قرارداد سے دنیا بھر میں یہ واضح پیغام جائے گا کہ امریکہ شدت پسند تنظیموں کی حمایت نہیں کرے گا۔ اگرچہ صدر بش اس قرارداد پر عمل درآمد کے پابند نہیں ہیں لیکن ان کی حکومت پہلے ہی فلسطینی امداد کی بندش کی دھمکی دے چکی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بدھ کے روز سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا کہ حماس کی حکومت کو کوئی امداد نہیں دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ فلسطینی عوام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھے گا۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکہ نے سن 2006 میں فلسطینیوں کے لیے پندرہ کروڑ ڈالر کی رقم مختص کر رکھی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو امداد دینے والے دو بڑے ڈونر امریکہ اور یورپی یونین ہیں اور دونوں نے حماس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کر دے۔ اسرائیل بھی پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکس واجبات کی ادائیگی روک سکتا ہے۔ حماس نے ڈونرز کے اس مطالبے کو بلا جواز قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینی عوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں حماس کو حکومت بنانے کی دعوت27 January, 2006 | آس پاس رشوت اور دھونس قبول نہیں:حماس31 January, 2006 | آس پاس حماس: دباؤ اور کڑی شرائط کا سامنا 02 February, 2006 | آس پاس مفاہمت: حماس کی مشروط آمادگی 08 February, 2006 | آس پاس حماس: سینئر عہدوں پر نامزدگیاں16 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||