ایران اور انڈیا، امریکہ کا دوغلا پن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلحہ کے پھیلاؤ کے امریکی حامیوں نے امریکی حکومت کی جانب سے انڈیا کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کو امریکہ کا دوغلا پن قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت ہوا ہے جب امریکی حکومت ایران پر اس کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سےد باؤ ڈال رہی ہے۔ آج ویانا میں اقوام ِ متحدہ کے جوہری معاملات کے ادارے کے اجلاس میں یہ دباؤ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے اور ممکن ہے کہ ایران کا معاملہ سلامتی کو بھی بھیج دیا جائے۔ ایران اور انڈیا کے بارے میں امریکی رویے کا تضاد واضح ہے۔ انڈیا ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شمولیت سے انکاری ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کا بھی مالک ہے اور امریکہ نےگزشتہ ہفتے ہی انڈیا سے ایک ایسا جوہری معاہدہ کیا ہے جس کے نتیجے میں انڈیا کو امریکی سِول جوہری تکنیک تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایران وہ ملک ہے جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر چکا ہے اور اس کا دعوٰی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے مگر امریکہ اور دیگر یورپی ممالک اسے جوہری ایندھن تیار کرنے کی اجازت نہ دینے پر مصر ہیں جسے ایران بطور ’این پی ٹی‘ ممبر اپنا حق سمجھتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ جیسا کہ صدر بش نے بھی کہا کہ انڈیا ایک جمہوری ملک اور امریکہ کا دوست ملک ہے جبکہ ایران ان جوہری انسپکٹروں سے وہ تعاون نہیں کر رہا جس کی انہیں توقع ہے۔ یہ جوہری انسپکٹر ماضی میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ متن تو ایک طرف بلکہ جس وقت امریکہ اور انڈیا نے معاہدہ کیا ہے وہی خاصا متنازعہ ہے۔ اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ فوری طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعہ پر موجود سفارتی چپقلش کی راہ تبدیل نہیں کر سکتا جو کہ ’ آئی اے ای اے‘ کے ویانا اجلاس اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں موجود رہےگی، تاہم یہ انتہائی غلط وقت پر اٹھایا جانے والا ایک غلط قدم ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے یورپ کی سربراہی میں کی جانے والی تین سالہ کوششیں ایک لحاظ سے بے نتیجہ رہی ہیں اور اب ضرورت ہے کہ کسی نئے اور مختلف ڈھانچے پر بات کی جائِ اور ایک ایسا گروپ ایران سے بات چیت کرے جس میں امریکہ سمیت متعدد ممالک شامل ہوں کیونکہ امریکہ ہی وہ ملک ہے جو ایران کے جوہری عزائم میں پنہاں سکیورٹی خدشات کی بات کر سکتا ہے لیکن فی الحال بش انتظامیہ کسی ایسی راستے پر چلنے میں دلچسپی لیتی دکھائی نہیں دیتی۔ | اسی بارے میں ایران تنازعے کا حل بات چیت: منموہن06 March, 2006 | انڈیا یورینیم افزودگی کی ایرانی دھمکی05 March, 2006 | آس پاس ایران، روس۔انڈیا بات چیت05 March, 2006 | انڈیا جوہری معاملہ،ایران ای یومذاکرات03 March, 2006 | آس پاس انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت03 March, 2006 | انڈیا انڈیا، امریکہ دنیا بدل سکتے ہیں: بش03 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||