BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 March, 2006, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوستان کا جوہری پروگرام

بھارت کا جوہری پروگرام
ہندوستان میں دو ری ایکٹرز خالصًتا فوجی مقاصد کے لئے ہیں
ہندوستان کا دوہرے استعمال کا جوہری توانائی کا پروگرام 1950 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں شروع ہوا تھا۔

جوہری پروگرام کے سلسلے میں ملٹی ڈسپلنری طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ پروگرام بنیادی تحقیق پر منحصر ہے اس لئے غیر فوجی مقاصد پر زیادہ زور نہ ہونے کے باوجود فوجی نوعیت کے پروگرام کو بھی خاصی وسعت ملی ہے۔
ملک میں اٹیمی توانائی کمیشن کے پہلے چیئرمین ڈاکٹر ہومی جے بھابھا تھے۔ نیوکلیائی پروگرام انہیں کے تصورات پر مبنی ہےجو تین مرحلوں کی بنیاد پر قائم ہے۔

پہلے مرحلے میں ایسے ری ایکٹرز آتے ہیں جو ’ہیوی واٹر‘ یا قدرتی یورینیم سے چلتے ہیں۔ ان ری ایکٹرز سے جو ایندھن نکلتا ہے وہ دوسرے مرحلے کے فاسٹ بریڈرز نوعیت کے ری ایکٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ پلوٹونیم ری ایکٹرز ہیں۔ ہندوستان کا جوہری بم یورینیم سے نہیں بلکہ پلوٹونیم سے بنایا گیاہے جبکہ امریکہ اور پاکستان کے جوہری بم افزودہ یورینیم پر مبنی ہیں۔

ہندوستان میں اس وقت 15 ایٹمی ری ایکٹرز ہیں۔ ان سے مجموعی طور پر صرف 2600 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ صرف چار ری ایکٹرز ایسے ہیں جو بین الاقوامی اٹیمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کے دائرے میں ہیں۔ ان میں تاراپور میں واقع دو ری ایکٹرز 1960 کی دہائی میں امریکہ سے خریدے گئے تھے اور دو ری ایکٹرز راجستھان اٹامک پاور اسٹیشن کے تحت ہیں جو کینیڈا سے حاصل کئے گئے تھے۔

ان کے علاوہ سات دیگر ری ایکٹرز تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان میں بھی صرف دو بین الاقوامی ایجنسی کی نگرانی کے دائرے میں ہیں۔ یہ دونوں ری ایکٹرز روس کی مدد سے تعمیر کئے جا رہے ہیں۔

تارا پور کے دو اور کودن کلم کے دو روسی ری ایکٹرز افزودہ یورینیم سے چلتے ہیں جبکہ باقی سبھی نیوکلیائی بجلی گھر ہیوی واٹر والے ری اکٹرز ہیں۔ اسی سلسلے کے ایک اور مزید جدید قسم کے ری ایکٹرز کی منظوری دی گئی ہے جو جوہری بم کے ماد ے تیار کرسکتا ہے۔

چننئی کے نذدیک کالپکم میں واقع اندراگاندھی اٹامک ریسرچ سنٹر میں 40 میگا واٹ کا ایک تجرباتی فاسٹ بریڈر ری ایکٹر بھی ہے۔

اسی طرز پر ایک 500 میگا واٹ کا ری ایکٹر چینئی میں بنایا جا رہاہے۔ یہ استعمال شدہ ایندھن سے جوہری بم کے لئے پلوٹونیم تیار کرے گا۔

ہندوستان میں دو ری ایکٹرز خالصًتا فوجی مقاصد کے لئے ہیں۔ یہ ٹرامبے میں بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر میں واقع ہیں۔ ان میں ’سائرس‘ چالیس میگا واٹ اور ’دھروا‘ 100 میگا واٹ صلاحیت کا ہے۔ یہاں سے نکلنے والا پلوٹونیم صرف جوہری بم بنانے کے لئے مخصوص ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد