BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بعض معاملات پر اختلاف ہیں: برنز

نکولس برنس اور شیام سرن
بھارت کو اپنی سول اور دفاعی جوہری تنصیبات کو علیحدہ کرنا ہو گا
امریکی وزارت خارجہ کے اعلی اہلکار نکولس برنز نے ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اپنے ہندوستانی ہم منصب شیام سرن سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلائی معاہدے کے بارے میں اب بھی بعض معاملات پر اختلافات ہيں اور انہيں اس بات کا یقین نہیں ہے یہ اختلافات صدر بش کے دورہِ ہند سے قبل دور ہو سکيں گے یا نہیں۔

نکلولس برنز نے ہندوستان روانگی سے قبل کہا تھا کہ ہندو ستان اور امریکہ کے درمیان کیا گیا نیوکلائی معاہدہ 90 فی صد مکمل ہو چکا ہے۔ لیکن جمعرات کو اپنے ہندوستان ہم منصب شام سرن سے ملاقات کے بعد مسٹربرنز نے کہا کہ خارجہ سیکریٹری شیام سرن کے ساتھ بات چیت کافی اچھی رہی۔ لیکن بعض معاملات میں دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات اب بھی باقی ہیں جنہیں جلد سے جلد دور کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ کل امریکی ایشائی سوسائٹی سے خطاب کے دورن صدر بش کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برنز نے کہا: ’صدر بش نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جوہری تنصیبات بالکل واضح طوور پر فوجی اور غیر فوجی زمرے میں تقسیم کی جانی چاہیے اور اس کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔‘

جمعرات کو ہونے والے بات چیت کے بارے میں ہندوستان کی وزارت خارجہ کی صرف سے ایک بیا ن جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیوکلائی معاہدے پر دونوں ملکوں کے ورکنگ گروپ کل بھی بات چیت کریں گے۔

ہندوستان اور امریکہ دونوں ہی اس معاہدے کو صدر جارج بش کے ہندوستان کے دورے سے پہلے حتمی شکل دے دینا چاہتے ہیں اس معاہدے میں پیچیدگی فاسٹ بریڈر ریایکٹر پروگرام کے سوال پر پیدا ہو‏ئی ہے-

امریکہ چاہتا ہے کہ اسے غیر فوجی جوہری تنصیبات کی اس فہرست میں شامل کیا جائے جو بین اقوامی ایٹمی ایجنسی کے معائنے کے دائرے میں آئیں گی جبکہ ہندوستان کے جوہری سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ فاسٹ بریڈر تحقیق وترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں اس لیے انہیں اس فہرست میں شامل نہ کیا جائے۔

کئی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر فاسٹ بریڈر معائنے والی فہرست میں چلے گئے تو بم بنانے کے لیے مطلوبہ پلوٹونیم ان ری ایکٹرز سے نہیں مل پائے گا۔ دونوں ملکوں کے اہلکار اسی مسئلے پر کوئی حل تلاش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد