BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 08:42 GMT 13:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جوہری معاہدہ اسلحہ کیلیے نہیں‘
جوہری تنصیب
بھارت کا کہنا ہے کہ وہ جوہری طاقت سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے
بھارت نے ان خدشات کو رد کردیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایک سویلین جوہری معاہدے کا مقصد مزید جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے۔

اس متنازعہ معاہدے کے بعد ، جس کی توثیق ابھی امریکی کانگریس کی جانب سے کی جائے گی، بھارت کو جوہری ایندھن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس نیوکلیئر ری ایکٹرز تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

اس معاہدے کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

اگلے ماہ صدر بش کے بھارت کے مجوزہ دورے سے قبل دونوں ممالک اس معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں۔

واشنگٹن میں بھارتی سفیر رونن سین نے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ ’اس قیاس آرائی میں کوئی صداقت نہیں کہ اس معاہدے سے بھارت کو جوہری ہتھیار تیار کرنے میں مدد ملے گی‘۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے جوہری ٹیکنالوجی خفیہ طور پر یا پھر خفیہ معاہدوں کے تحت دوسرے ممالک سے حاصل نہیں کی ہے اور ہمیں اپنے نیوکلیئر پروگرام کے لیے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہے‘۔

’امریک کے ساتھ اس معاہدے کو جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے متحرک تنظیمیں غلط رنگ دے رہی ہیں‘۔

ابھی تک اس معاہدے کو حتمی شکل نہ دیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں شہری اور فوجی جوہری تنصیبات کو الگ کرنے پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور اس معاہدے کا انحصار بھی اسی فیصلے پر ہے۔

بھارت کو اپنی سویلین جوہری تنصیبات کو تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں کے تحت کرنا ہوگا اور انہیں اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے تجزیے کے لیئے کھولنا ہوگا۔

تاہم امریکی کانگریس کے کچھ ارکان کو خدشہ ہے اس سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کی خلاف ورزی ہوگی۔ بھارت نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیئے ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں اپنی تنصیبات کو آئی اے ای اے کے لیئے کھولنے کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر 2005 میں دستخط کیئے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیوں کو اجازت ہوگی کہ وہ بھارت میں جوہری پاور پلانٹس قائم کرسکیں۔

بھارت کے 1998 کے جوہری تجربات کے بعد امریکہ نے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندی عائد کردی تھی۔

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ جوہری طاقت سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں
ہندوستان کی کشمکش
30 January, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد