فرانس اور بھارت کا جوہری معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس اور بھارت نے پر امن مقاصد کے لیےجوہری تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ فرانس کے صدر اور بھارتی وزیرِ اعظم کے درمیان بات چیت کے بعد سر انجام پایا۔ ملاقات کے بعد بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے صدر ژاک شیراک کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ’ ہم بھارت اور عالمی دنیا کے درمیان ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے معاملے میں فرانس کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘۔ مسٹر شیراک اور ہندوستانی وزيراعظم نے ملاقات میں نیوکلیائی توانائی اور خلائی ٹیکنالوجی میں تعاون کے پہلوؤں پر بھی مفصل بات چیت کی۔ یاد رہے کہ فرانس پہلے ہی غیر فوجی نیوکلیائی تنصیبات کے لیئے ٹیکنالوجی اور ایندھن دونوں ہی فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے۔ صدر ژاک شیراک اتوار کو ہندوستان کے تین روزہ دورے پر دلی پہنچے تھے۔ بھارت کے فرانس سے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ مشینری اور ٹیکنالوجی کے علاوہ فرانس بھارت کو دفاعی سازو سامان کی فراہمی کا بھی ایک بہت بڑ ا ذریعہ ہے۔ مسٹر شیراک نے پچھلے ہفتے ماحولیات کے ایک تنازعہ میں اس وقت براہِ راست مداخلت کی تھی جب انہوں نے’ کلیمنسو‘ نامی بحری جہاز کو ہندوستان پہنچنے سے پہلے واپس آنے کا حکم دیا تھا۔ یہ جہاز گجرات آ رہا تھا جہاں اسے توڑ کر کباڑ میں تبدیل کیا جانا تھا۔ ماحولیاتی تنظیموں کا الزام تھا کہ اس جہاز پر زہریلے مادے لدے ہوئے ہیں جو جہاز توڑنے والے مزدوروں کی صحت کے لیئے خطرناک تھا۔ جہاز واپس چلے جانے سے فرانس اور ہندوستان کے درمیان ایک بڑا تنازعہ پیدا ہونے سے بچ گیا تھا۔ | اسی بارے میں فرانسیسی حکومت کا ’زہریلا درد سر‘15 February, 2006 | انڈیا ’کلیمنسو‘ کے داخلے پر پابندی13 February, 2006 | انڈیا ہندوستان کی کشمکش30 January, 2006 | انڈیا بھارت چھ آبدوزیں خریدے گا12 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||