BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 23:34 GMT 04:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانسیسی حکومت کا ’زہریلا درد سر‘
کلیمنسو
’اس معاملے نے ملک کی شرمندگی میں ایک اور باب کا اضافہ کردیا ہے‘
فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے ملک کی عدالت عالیہ کے احکام نامے کے بعد حکم دیا ہے کہ زہریلے مادے ’ایسبسٹوس‘ سے لدے جنگی بحری جہاز کلیمنسو کو واپس فرانس بلایا جائے۔

فرانس نے بھارت کی ایک کمپنی کے ساتھ پرانے جہاز کو توڑنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا اور اسی معاہدے کے تحت یہ پرانا بحری جہاز ہندوستان کی ریاست گجرات کے ساحلی شہر النگ لایا جا رہا تھا۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’گرین پیس‘ اور ماحولیات کی دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ماحول اور صحت کے لیے خطرناک ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں یہ جہاز فرانس سے بھارت کے لیے روانہ ہوا تھا۔فی الوقت بھارت میں اس کی آمد پر پابندی کے بعد یہ بحیرہ عرب میں کھڑا ہے۔ بھارت کا کہنا تھا کہ جہاز کی آمد کی اجازت دینے کے لیے انہیں اس 27000 ٹن جہاز کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی جائیں۔

ماحولیات کے ماہرین کے مطابق اس جہاز میں موجود ’اسبیسٹوس‘ کا زہریلا مادہ ان مزدوروں کی صحت کے لیے کافی خطرناک ثابت ہوسکتا تھا جو پرانے جہاز کو توڑنے کا کام کرتے ہیں۔

فرانسیسی صدر کے حکمنامے میں کہا گیا ہے ’صدر نے فیصلہ کیا ہے کہ اس جہاز کو توڑنے کے کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے یہ فرانس ہی کے پانیوں میں تیار حالت میں کھڑا رہے گا‘۔

گرین پیس نے اس اقدام کو بھارتی کارکنوں کی جیت اور ان امیر ممالک کے لیے ایک تنبیہ قرار دیا ہے جو اپنے زہریلے مادے کو غریب ممالک کے پانیوں میں ضائع کرتے ہیں۔

بھارت کے النگ شِپ بریکنگ یارڈ کا کاروبار ان دنوں مندی میں ہے کیونکہ جہاز توڑنے کے ٹھیکے کہیں اور منتقل ہوچکے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن وائٹ کا کہنا ہے کہ کلیمنسو فرانس کے لیے ’زہریلا درد سر‘ ثابت ہوا ہے اور اس معاملے نے ملک کی شرمندگی میں ایک اور باب کا اضافہ کردیا ہے۔

کلیمنسو کو 1997 میں بے کار قرار دیا گیا تھا جس کے بعد اسے توڑنے کے لیے ایک ہسپانوی کمپنی کو نیلام کردیا گیا تھا۔ تاہم یورپی یونین میں صحت اور تحفظ کے سخت قوانین کے باعث ایسا نہ ہوسکا۔

پھر کلیمنسو کو فرانس کی بحریہ نے ترکی بھیجنےکی کوشش کی تاہم یہ وہاں سے واپس لانا پڑا۔

اس کے بعد ایک جرمن کمپنی نے اسے ٹھکانے لگانے کا بیڑہ اٹھایا جس کے تحت جہاز کو بھارت کی طرف روانہ کیا گیا۔ رستے میں مصر نے جہاز سے صحت و ماحول کے خدشات کے باعث ایک ہفتہ کے لیے روک لیا اور پھر بھارتی حکام نے اس کی آمد پر پابندی لگا دی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد