بھارت نےسب سے زیادہ اسلحہ خریدا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق 2004 میں ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ روایتی اسلحہ خریدنے والا ملک بھارت تھا۔ رپورٹ کے مطابق نئی دلی نے اسلحہ پر پانچ عشاریہ سات بلین ڈالر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یعنی بھارت اس شعبے میں چین سے بھی آگے ہے ۔ جبکہ اسی دوران امریکہ اسلحہ سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا جس نے 2004 میں نو عشاریہ چھ بلین ڈالر کی مالیت کا اسلحہ سپلائی کیا ہے۔ اس ہفتے جاری ہونے والی کانگریس کی اس تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت اور چین کو سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک بتایا گیا ہے۔ بھارت نے 1997 اور 2004 کے درمیان 15 عشاریہ سات بلین ڈالر کی مالیت کے روایتی ہتھیاروں کی منتقلی کے معاہدے کئے ہیں۔ 2001 سے 2004 کے دوران چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر کے بھارت پر سبقت حاصل کر لی تھی لیکن 2004 میں بھارت اسلحہ کی دوڑ میں پھر سر فہرست آگیا۔ 2004 میں دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اسلحہ کی مجموعی فروخت 37 بلین ڈالر رہی ۔ ان میں سب سے زیادہ سودے امریکہ کے ساتھ ہوئے جبکہ روس اور برطانیہ دوسرے نمبر پر رہے۔ فروخت ہو نے والے اسلحہ میں ٹینک ،آبدوزیں، لڑاکا طیارے، میزائیل اور گولہ بارود تھا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سین میک کورمیک کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یہ اسلحہ ’بہت ہی سخت ضوابط اور قوانین‘ کے تحت فروخت کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||