بھارت کو F18 کی پیشکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے امریکہ کی طرف سے جنگی ساز وسامان اور جوہری توانائی دینے کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اس پر غور کریگا۔ لیکن اسکا کہنا ہے کہ ہندوستان ہتھیاروں کی دوڑ میں کسی بھی طرح شامل نہیں ہے۔امریکہ نے پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیارے دینے کا اعلان کے بعد اس نے ہندوستان کو بھی ایک خاص پیکج کی پیش کش کی ہے۔ اس پورے معاملے پر وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا ’امریکہ نے پہلی بار ہمیں یہ پیش کش کی ہے اور حکومت اپنی مسلح افواج کی ضروریات کے مطابق اس معاملے پر غور کریگی‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی کبھی کبھار اعلی تکنیک حاصل کرتے تھے لیکن فی الوقت امریکہ نے طیاروں سمیت اعلي تکنیک کی جو پیش کش کی ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن اس موقع پر مسٹر مکھرجی نے کہا کہ ’ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کا ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔ امریکہ نے ہندوستان کو ایف سولہ اور ایف اٹھارہ جنگی جہاز، جوہری توانائی اور فضائی شعبے کے لیے اعلي تکنیک دینے کی پیش کش کی ہے۔ امریکہ نے ہندوستان پر عائد دفاعی پابندیاں بھی اٹھا لی ہیں اور اسکا کہنا ہے دفاعی شعبے میں وہ ہندوستان کے ساتھ اپنی مشترکہ حکمت عملی کے دائرے کو بڑھانا چاہتا ہے۔ امریکہ نے جب پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیارے دینےکااعلان کیا تو ہندوستان نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیارے دینے سے خطے میں امن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور اس سے علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ بھی شروع ہوسکتی ہے۔ امریکہ اور ہندوستان سرد جنگ کے زمانے میں ایک دوسرے کے حریف تھے اور بھارت دفاعی ساز وسامان روس سے خریدتا تھا۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||