ایف 16 بیچنے کے فیصلے کا دفاع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے بھارت کی مخالفت کے باوجود پاکستان کو ایف سولہ تیارے بیچنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ پاکستان اور بھارت سے بیک وقت تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اُس وقت بھارت اور پاکستان سے تعلقات بڑھائے اور مضبوط کیے جائیں جب کہ ان دونوں ممالک سے ہی ہمارے تعلقات اچھے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا کرنا ناممکن ہے۔ اب دونوں ملک بھی آپس میں تعلقات بہتر بنا رہے ہیں۔‘ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ وہ گیارہ ستمبر کمشن کے مشورے پر عمل پیرا ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پر توجہ دی جائے ورنہ خطرہ ہے کہ پاکستان ویسے ہی کرے گا جیسے اس نے نوے کی دھائی میں کیا تھا اور طالبان کے ساتھ تعلقات بنا لیے تھے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان کو اس جگہ پہنچتے پہنچتے بہت عرصہ لگا ہے۔‘ پاکستان نے اسی کے اواخر میں امریکہ کے ساتھ ایف 16 طیارے خریدنے کے لیے معاہدہ کیا تھا لیکن نوے کی دھائی میں امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں لگاتے ہوئے ان طیاروں کی فروخت بھی روک دی۔ ان طیاروں کی فروخت اب امریکہ کے تین بلین ڈالر امدادی پیکج کا حصہ ہے۔ واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ وسیع تر سٹریٹجک تعلقات چاہتا ہے اور اس نے بھارت کے جوہری توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مسترد نہیں کیا۔ کونڈولیزا رائس نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس سے ہٹ کر بات کر رہے ہیں لیکن بھارت کی توانائی کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ہم ان سوچ رہے ہیں کہ کس طرح ان کی مدد کی جائے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||