پرتھوی کا ایک اور تجربہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے زمین سے زمین پر وار کرنے والے پرتھوی میزائیل کا ایک اور کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائیل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پرتھوی - ون کا یہ تجربہ اڑیسہ کی ساحلی تجربہ گاہ سے کیا گیا۔ یہ میزائیل دوسو پچاس کلو میٹر تک مار کرسکتا ہے اور اگر اس سے منسلک بم کا وزن کم ہو تو یہ فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ بھارت کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ میزائیل جنگی محاذ پر فوجی جماؤ یا بکتر بند گاڑیوں کے قافلے کو تباہ کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔ 8.5 میٹر لمبے پرتھوی - ون میزائل کا پہلا تجربہ 1988 میں کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ اپریل میں بھی اس میزائیل کو آزمایا گیا۔ دفاعی سائینس دانوں کے مطابق اس میزائيل میں جدید کمپیوٹر نصب ہے جو اپنے نشانے کی بالکل درست نشاندہی کرتا ہے۔ یہ میزائیل ایک سو پچاس کلو میٹر دور اپنے ہدف پر صرف تین سو سیکنڈ کے قلیل وقت میں پہونچ سکتا ہے۔ پرتھوی میزائيل پہلے ہی فوج کو استعمال کے لیے دیا جا چکا ہے اور یہ تجربہ اسکی صلاحیت کو مزید بہتر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ بھارت کے دفاعی ادارے، ڈی آر ڈی او نے ملک میں کئی میزائیل تیار کیے ہیں جن میں پرتھوی کے علاوہ اگنی، آکاش اورترشول قابل ذکر ہیں۔ ان میزائیلوں کے تجربے اکثر ہوتے رہتے ہیں جسکی اطلاع بھارت اور پاکستان عمومًا ایک دوسرے کو ان تجربوں سے پہلے دے دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||