BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش کے استقبال اور احتجاج کی تیاریاں

صدر بش
صدر بش کا یہ جنوبی ایشیا کا پہلا دورہ ہے
امریکہ کے صدر جارج بش بدھ کی شام ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں ان کے خیر مقدم کی تیاریاں ہو رہی ہیں وہیں دوسری جانب کئی تنظیموں نے انکی آمد پر مظاہروں اور احتجاج کا پروگرام بنا رکھا ہے۔

تین روزہ دورے میں وہ ہندوستان کی قیادت سے اقتصادی اور تجارتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ ایک جوہری معاہدے پر بھی بات چیت کریں گے۔

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ اعلیٰ اہلکاروں کا ایک وفد بھی ہندوستان آ رہا ہے۔ اس وفد میں وزير خارجہ کونڈولیزا رائس اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سٹیو ہیڈلی سمیت امریکی انتظامیہ کے متعدد اعلیٰ اہلکار شامل ہیں۔

ہندوستان کے خارجہ سیکریٹری شیام سرن نے صدر بش کے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اپنے قیام کے دوران وہ ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم سمیت اعلیٰ رہنماؤں اور صنعتکاروں سے ملاقات کریں گے۔ شیام سرن نے مزید بتایا کہ صدر بش وزير اعظم سے ملاقات کے دوران کئی اقتصادی اور تجارتی معاملات پر بات چیت کريں گے۔

شیام سرن کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما جوہری معاہدے پر بھی بات چیت کریں گے جس میں اب بھی کئی پیچدگیاں باقی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’یہ پیچیدہ معاملہ ہے، اس لیئے ہندوستان چاہتا ہے کہ اس معاہدے سے متعلق تمام پہلو واضح رہیں تاکہ مستقبل میں کوئي پیچیدگی نہ پیدا ہو‘۔

امریکی صدر اپنے دورے کے دوران ایک پروگرام میں ملک کے سرکردہ صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں سے خطاب بھی کريں گے۔ اس کے علاوہ وہ حیدرآباد بھی جائیں گے۔

لیکن صدر بش کے ہندوستان پہنچنے سے قبل ہی کئی تنظیموں کی طرف سے احتجاج کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت ممبئی، حیدرآباد، کولکتا، لکھنؤ اور دلی جیسے کئی مقامات پر صدر بش کے خلاف پوسٹرز لگائے گئے ہیں اور ان کے پتلوں کو جلایا گیا ہے۔

بدھ اور جمعرات کو دارالحکومت دلی میں مسلم تنظیموں، بائيں بازوں کی جماعتوں اور سماج وادی پارٹی نے ایک بہت بڑی ریلی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنظيمیں مختلف وجوہات پر صدر بش کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
عرب کمپنی کےحق میں ویٹو
22 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد