پیٹریاٹ ڈیل: کانگریس مان گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس کے ارکان اور صدر بش کی انتظامیہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ قانون پیٹریاٹ ایکٹ پر سمجھوتہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں پیٹریاٹ کے نفاذ میں توسیع ہو جائے گی۔ پیٹریاٹ ایکٹ کو گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعد لاگو کیا گیا تھا اور اس سے امریکی حکومت کو ہراس شخص کی نگرانی کا اختیار مل گیا تھا جسے وہ مشتبہ سمجھے۔ صدر بش کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قانون امریکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھنے والوں کو ناکام بنانے کا اچھا ہتھیار ہے۔ تاہم نقاد کہتے ہیں کہ اس قانون سے لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت ہوتی ہے اور اس سے شخصی آزادیوں کو زک پہنچتی ہے۔ نقاد یہ بھی کہتے ہیں کہ اس قانون کی وجہ سے تفتیش کاروں کو لوگوں کے طبی ریکارڈ تک رسائی کا اختیار مل گیا ہے۔ وہ یہ بھی جان سکتے ہیں کہ کوئی فرد لائبریری سے کونسی کتاب لے کر گیا ہے۔ اس قانون کی کچھ شقیں گزشتہ برس کے آخر میں اپنا وقت پورا ہونے پر بے اثر ہو گئی تھیں اور کانگریس نے اس قانون کی تجدید میں حکومت کی حمایت سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم کانگریس کے کچھ ارکان نے کہا ہے کہ اب وہ اس قانون کی حمایت کریں گے۔ تاہم حکومتی جماعت کے ارکان سینیٹر کہتے ہیں کہ اس قانون کی زبان میں ترامیم کر دی گئی ہیں جس سے شخصی آزادیوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ختم ہو گیا ہے۔ جب اس قانون کی تجدید کے لئے کانگریس میں ووٹنگ ہوگی اور یہ قانون اطلاق پذیر ہوگا تو صدر بش کی ایک بہت بڑی مشکل دور ہو جائے گی۔ اس قانون کی تجدید کرانا صدر بش کی انتظامیہ کے لئے دردِ سر بن گیا تھا اور حکومت کے ناقدین کو صدر بش کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کا موقع مل گیا تھا۔ | اسی بارے میں پیٹریاٹ ایکٹ پر صدربش کی ہزیمت23 December, 2005 | آس پاس پیٹریاٹ ایکٹ میں چھ ماہ کی توسیع22 December, 2005 | آس پاس ’پیٹریاٹ شقوں میں تجدید نامنظور‘16 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||