پیٹریاٹ ایکٹ میں چھ ماہ کی توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سنیٹ نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد بنائے جانے والے دہشت گردی مخالف قانون پیٹریاٹ ایکٹ میں چھ ماہ کی توسیع کردی ہے۔ صدر جارج بش نے اس قانون کی مستقل توسیع کی حمایت کی تھی۔ اس قانون کی کچھ شقیں اکتیس دسمبر کو ختم ہونے والی تھیں۔ اس قانون میں توسیع کو ابھی ایوان زیریں یعنی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹِو سے منظوری کی ضرورت ہے۔ شہری حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیمیں پیٹریاٹ ایکٹ پر شدید تنقید کرتی رہی ہیں کیوں کہ اس کے تحت حکومت کو شہریوں کی تلاشی اور نگرانی کے وسیع اختیارات ہیں۔ امریکی سنیٹ سے اس قانون میں توسیع کی منظوری کو بش انتظامیہ اور حزب اختلاف کے درمیان ایک سمجھوتہ سمجھا جارہا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے اگرچہ یہ سمجھوتہ بش انتظامیہ کے لیے شکست سمجھا جارہا ہے تاہم صدر جارج بش نے اس قانون میں توسیع کا عوامی طور پر خیرمقدم کیا ہے۔ اگرچہ پیٹریاٹ ایکٹ پر شدید اختلافات سامنے آئے اور گرما گرم مباحثے ہوئے، تاہم اس کی سولہ شقیں بغیر کسی مخالفت کے منظور کرلی گئیں۔ صدر بش نے کہا کہ یہ قانون دہشت گردی کے خلاف اہم ہتھیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹریاٹ ایکٹ ’آئندہ موسم گرما میں منسوخ ہوجائے گا لیکن امریکہ کو دہشت گردی کا خطرہ اس وقت ختم نہیں ہوگا۔‘ امریکی صدر نے مزید کہا: ’میں کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کرتا ہوں تاکہ پیٹریاٹ ایکٹ کو پھر سے منظور کیا جاسکے۔‘ اس قانون کے تحت فون ٹیپ کیے جاسکتے ہیں، ہسپتالوں اور تجارتی اداروں سے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیے جاسکتے ہیں اور لائبریریوں سے شہریوں کی جانب سے لے جائی جانے والی کتابوں کا ریکارڈ طلب کیا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’پیٹریاٹ شقوں میں تجدید نامنظور‘16 December, 2005 | آس پاس پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف 18 December, 2005 | آس پاس امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول پینٹاگون ایک اور سکینڈل کی زد میں29 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||