BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 01:00 GMT 06:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرب کمپنی کےحق میں ویٹو
اس وقت یہ بندگاہیں برطانوی کمپنی کے زیرِ انتظام ہیں
اس وقت یہ بندگاہیں برطانوی کمپنی کے زیرِ انتظام ہیں
امریکی صدر بش نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے قانون کے خلاف اپنا ویٹو کا حق استعمال کریں گے جو کہ ایک عرب کمپنی کو چھ امریکی بندرگاہوں کے انتظام سنبھالنے کو روکنے کے لیے لایا جائے گا۔

امریکی صدرنے یہ بیان رپبلکن جماعت کے رہنما بل فرسٹ کی طرف سے عرب سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی اور ایک برطانوی کمپنی کے درمیان معاہدے کے خلاف سینیٹ میں نیا بل پیش کرنے کے اعلان کے بعد جاری کیا ہے۔

یہ معاہدہ ہوجانے کی صورت میں امریکہ کی چھ بڑی بندگاہوں کا انتظام متحدہ عرب امارت کی کمپنی دبئی پورٹس ورلڈ کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔

کچھ قانوں سازوں کای خیال ہے کہ اس امریکہ میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے گا تاہم حکام نے کہا ہے کہ تمام احتیاطی تدابیر کر لی گئی ہیں۔

مذکورہ چھ امریکی بندگاہیں اس وقت برطانیہ سے تعلق رکھنے والی پورٹ اور شپنگ کی کمپنی پی اینڈ او چلا رہی ہے جس نے چھ عشاریہ آٹھ بلین ڈالر میں ان بندگاہوں کو دبئی کی کمپنی کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔

نیو آرلینز، میامی ، فلاڈیلفیا اور بالٹی مور کی بندگاہیں مذکورہ چھ بندرگاہوں میں شامل ہیں۔

صدر بش نے اس معاہدے کے مخالفین سے پوچھا ہے کہ وہ ان بندگاہوں کو مشرق وسطی کی ایک کمپنی کو دینے کی کیوں مخالفت کر رہے ہیں جبکہ اس وقت یہ بندرگاہیں ایک برطانوی کمپنی کے زیر انتظام ہیں۔

صدر بش نے کہا کہ وہ خارجہ پالیسی کو اس بنیاد پر چلا رہے ہیں کہ بیرونی دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ امریکہ سب کے ساتھ انصاف سے پیش آتا ہے۔

سینیٹ میں اکثریتی جماعت رپبلکن پارٹی کے رہنما فرسٹ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کو اس وقت التواء میں رکھا جائے جب تک انتظامیہ اس معاملے کا بغور جائزہ نہیں لیے لیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدہ کو التواء میں نہ رکھا گیا تو وہ اس کو معطل کرنے کے لیے نیا قانون پیش کریں گے۔

اس معاہدے سے حزب اقتدار رپبلکن اور حزب اختلاف ڈیموکرٹیک پارٹی دونوں کے اراکین میں یکساں تشویش پائی جاتی ہے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے دہشت گردی کا خطرہ بڑھے گا۔ وہ اس طرف بھی اشارہ کررہے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث دو دہشت گردوں کا تعلق بھی متحدہ عرب امارات سے تھا۔

اسی بارے میں
بندرگاہوں کے سودے پر شور
21 February, 2006 | آس پاس
رائس مشرق وسطی کے دورے پر
21 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد